Headlines

اردو یونیورسٹی میں اردو کا قتل : اردو کے بہی خواہ کب بیدار ہوں گے؟

Posted by Indian Muslim Observer | 23 February 2012 | Posted in , , , , ,

عابد انور

اردو ہندوستان کی زبان کی ہے، بہت میٹھی ہے، تہذیب و اقدار کی زبان کی ہے، اس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوسکتی، اردو نے گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے وغیرہ وغیرہ یہ ایسے خوشنما اور



وقف بورڈ کی زمین پر امبانی کامحل

Posted by Indian Muslim Observer | 28 November 2010 | Posted in , ,

انجم نعیم

ممبئی کے مسلمانوں اوران کی مقامی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود ممبئی کے نہایت اہم علاقے میںموجود 4532مربع میٹر انتہائی مہنگی زمین مکیش امبانی کو الاٹ کردی گئی جس پر اس وقت امبانی کی 27منزلہ شاندار عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کی یتیم خانے کے لئے مختص اس زمین کو اونے پونے دام میں حکومت کے اعلی ذمہ داروں نے مکیش امبانی کو دے دیا اور سلامتی کے احتجاج کے باوجود نے تو مہاراشٹر کی کانگریسی حکومت نے اس سلسلے میں کوئی یقین دہانی کرائی اورنہ ہی کسی بھی سیاسی پارٹی سے وابستہ کسی مسلمان لیڈر نے اس پر آواز احتجاج بلند کی۔ آج یتیم خانے کی اس جگہ پر امبانی کا محل بن کر کھڑا ہوگیا اور رشوت کھاکر خاموش ہوجانے والے لوگ خاموش تماشائی بنے اپنی بے غیرتی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ جن لوگوں نے اس پر آواز اٹھانے کی کوشش کی ان کواس طرح ڈرایا دھمکایاگیا کہ وہ مجبورہوکر ہاتھ پاﺅں باندھ کر بیٹھ گئے۔ لیکن ظلم اورناانصافی پر جتنا بھی پردہ ڈالنے کیکوشش کی جائے حقیقت بہرحال کبھی نہ کبھی سامنے آتی ہے اورجب اس وقت گھوٹالوں کے نرغے میں پھنسی ہوئی کانگریسی حکومت بے دست وپا نظرآرہی ہے تووقت کی اس آراضی کی اصلیت خود بخود سامنے آکر کھڑی ہوگئی ہے اورکانگریس کے اعلی ذمہ داران کی بے ایمانی اور زیادتی کا جیتا جاگتا ثبوت بن کر اپنے لئے انصاف کا مطالبہ کررہی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ آدرش گھوٹالے سے بچ کر نکلنے کی کوشش میں مہاراشٹر کی یہ نئی حکومت وقف کی اس آراضی کے سلسلے میں ہونےو الی دھاندلی کے معاملے میں کیا رویہ اختیار کرتی ہے۔

آدرش سے بدترین گھوٹالہ

حقیقت تو یہ ہے کہ آدرش ٹاور گھوٹالہ سے وقف کی زمین کا یہ گھوٹالہ کہیں زیادہ بدترین اور کانگریس حکومت کی دھاندلی کا افسوسناک چہرہ پیش کرتا ہے اور اقلیتی امور کی وزارت کابیان سوفیصد درست ہے کہ ایسے توکرپشن کا سب سے کلاسیک کیس قرار دیاجاسکتا ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ وقف کی اس زمین کو اونے پونے دام میں امبانی کو الاٹ کرنے میں خود سابق کانگریسی وزیراعلی ولاس راﺅ دیش مکھ نے ذاتی دلچسپی اور جن لوگوں نے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کی‘ اگر وہ سرکاری عہدے دار تھے تو ان کو ڈرادھمکاکر چپ کرادیاگیا اور اگر غیر سرکاری قسم کے پیشہ ورسیاست داں تھے تو ان کی منہ بھرائی کرکے ان کی آواز بند کردی گئی۔ لیکن لاش جب سڑنے لگتی ہے تووہ جس طرح ابل کر پانی کی سطح پر آجاتی ہے اسی طرح اس وقت یہ گھوٹالہ ابھر کر سامنے آگیا ہے اور مجرموں اور جرم کی طرف زوردار انداز سے یہ اشارے کررہا ہے۔

ریلائنس انڈسٹری کے مالک مکیش امبانی کایہ 27منزلہ محل اس وقت سینٹرل ویجیلنس کمیشن کے راڈارپر ہے اور اس پر تحقیق وتفتیش چل رہی ہے کہ وقف کی یہ 4532 مربع میٹر آراضی کس طرح امبانی کو دیدی گئی اور اس معاملے میں کن کن لوگوں نے اپنا گھناﺅنا کردار ادا کیا ہے اور مسلمانوں کی جانب سے جب اس بے ایمانی کے خلاف آواز اٹھائی گئی توحکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کیا رویہ اختیار کیاگیا۔

یونین منسٹر برائے اقلیتی امور کے ایک ڈائریکٹر اشیش جوشی نے سی وی سی سے کہا ہے کہ وہ مہاراشٹر کیحکومت سے معلوم کرے کے اس انتہائی گھناﺅنے گھوٹالے کے سلسلے میں اس کی کیارائے ہے اور وہ اس پورے معاملے میں کیاکارروائی کر رہی ہے۔ سی وی سی کے ذرائع کے مطابق گذشتہ دنوں ویجیلنس کمشنروں نے اس معاملے میں صلاح ومشورہ کرنے کے بعد اپنے واچ ڈاگ باڈی سے کہا ہے کہ وہ اسٹیٹ گورنمنٹ سے اس شکایت کے بارے میں نہ صرف اس کی رائے معلوم کرے بلکہ امبانی بلڈنگ کے اس پورے تنازعے کے سلسلے میں تمام معلومات طلب کرے۔ اس وقت اس امبانی بلڈنگ کی قیمت ایک ارب سے 2ارب روپے تک بتائی جارہی ہے۔

سچائی چھپانے کی کوشش

اس سلسلے میں جب امبانی کے آفس سے وضاحت طلب کی گئی تو اس نے اس پر اظہار خیال سے انکار کردیا۔ البتہ اس کے ترجمان نے بڑی ڈھٹائی سے یہ بات ضرور کہی کہ یہ زمین مہاراشٹر وقف بورڈ کی نہیں ہے اور امبانی نے یہ زمین معقول قیمت ادا کرکے اپنے مصرف کے لئے خریدی ہے۔

سینٹرل ویجیلنس کمیشن کے ایک اعلی افسران کے مطابق چونکہ یہ معاملہ ریاست کی حکومت کا معاملہ ہے۔ اس لئے اس گھوٹالے کے سلسلے میں کسی بھی انکوائری کاحکم تو مہاراشٹر کی حکومت ہی دے گی اس لئے اس کے جواب کا انتظار کرناہوگا۔ سی وی سی مرکزی حکومت کے افسروں کی دھاندلیوں پر کارروائی کرتی ہے۔ اس لئے ہم تو ریاستی حکومت سے یہ گذارش کریں گے کہ وہ اس گھوٹالے کی سی بی آئی سے انکوائری کاحکم دے کیونکہ یہ مسئلہ بہت ہی حساس نوعیت کا ہے۔ اس اعلی افسر کے مطابق اس وقت مہاراشٹر میں کوئی ریاستی ویجیلنس کمیشن نہیں ہے اس لئے ساری کارروائی ریاستی حکومت کی جانب سے ہی کی جانی چاہئے۔

یونین وزارت برائے اقلیتی امور کے ڈائریکٹر اشیش جوشی نے 25اکتوبر کرپشن کا سب سے کلاسیک کیس کے عنوان سے جو سی وی سی کو تفصیلی خط لکھا ہے اس میں بہت صاف صاف کہاگیا ہے کہ کس طرح مہاراشٹر کے کرپٹ عوامی نمائندوں نے سسٹم کا غلط استعمال کیا اوردھاندلی کے ذریعہ وقف بورڈ کی زمین جو ایک یتیم خانہ کی تعمیر کے لئے مختص کی گئی تھی‘ اسے غیر قانونی طور پر ایک جانے پہچانے صنعت کار کو اپنا گھر بنانے کے لئے الاٹ کردیا۔ جوشی کہتے ہیں کہ اس کیس کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح کچھ بااختیار بارسوخ اور مالدار افراد اپنی دولت کے بل بوتے پر سرکاری کرپٹ ذمہ داروں کو بے ایمانی کرنے پر تیار کرلیتے ہیں۔ یہ تو بالکل ہی قانون اور دستوری سسٹم کامذاق اڑانے کی کوشش ہے اور یہ کام دھڑلے سے کیاجارہا ہے۔

شکایت پرشنوائی کیوں نہیں

اقلیتی امور کی وزارت کو مئی 2008میں مہاراشٹر وقف بورڈ کے ایک ممبر احمد خاں یوں پٹھان کی جانب سے اس گھوٹالے کے سلسلے میں ایک تحریری شکایت موصول ہوئی تھی۔ اس تحریری شکایت میں لکھا گیا تھا کہ اس گھوٹالے کے سلسلے میں جب اسٹیٹ وقف بورڈ کے سی ای او ‘ اے آر شیخ نے آواز اٹھائی تھی تو اس وقت کے کانگریسی وزیراعلی ولاس راﺅ دیش مکھ نے اے آر شیخ پرتادیبی کارروائی کرکے اس خاموش کرنے کی کوشش کی تھی۔ حکومت کی جانب سے اس قسم کے تقریبا دو درجن معاملات کو فائل میں بندکردینے کی ہدایت دی گئی تھی اور اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے شیخ پر باضابطہ دباﺅ ڈالا گیا تھا۔ احمد خان پٹھان سے اپنے خط میں لکھاتھا کہ ان تمامعاملات میں ریاست کے وزیراعلی دیش مکھ خود ذاتی طور پر شریک تھے اور وہ ذاتی اور پارٹی کے مالی فائدے کی خاطر بلڈروں کی مددکر رہے تھے۔ پٹھان کا یہ شکایتی خط جو اقلیتی امور کی وزارت کو نہایت تفصیل سے لکھاگیا تھااب اس کی کاپیاں سی وی سی کوفراہم کردی گئی ہیں۔ اس خط کے ساتھ مہاراشٹر حکومت کا بیان بھی منسلک کیاگیا ہے۔ اس وقت کی یونین اقلیتی امور کی وزارت اور مہاراشٹر کے سابق وزیراعلی اے آرانتولے کے نام لکھے اس خط میں پٹھان نے لکھا ہے کہ آپ خوب واقف ہیں کہ مسلمان روایتی طور پر کانگریس کے خیر خواہ اوران کا ووٹ بینک رہے ہیں اوروہ مسلمانوں کے ووٹ کے بدولت ہی کانگریس اقتدار میں آتی رہی ہے۔ اب کانگریسی وزیراعلی دیش مکھ کی اس شرمناک حرکت کے بعد کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مسلمان خاموش رہیںگے اور کانگریس ان کے ووٹو سے محروم نہیں ہوجائے گی۔ پٹھان نے اپنے اس خط میںکانگریسی حکومت کے اعلی ذمہ داروں کی کھلی ہوئی اس دھاندلی کاتفصیل سے ذکر کیا ہے لیکن حیرت ہے کہ نہجانے کون سی مصلحت درپیش تھی کہ انتولے جیسے ذمہ دار شخص بھی دو سال تک اس خط پر خاموشی سادھے بیٹھے رہے اور انہوںنے ایک ذمہدار عہدہ دار ہوتے ہوئے بھی آگے کی کوئی کارروائی نہیں کی

یونین منسٹری برائے اقلیتی امور کے ڈائریکٹر اشیش جوشی نے سی وی سی کو جو خط لکھا ہے اس میں پٹھان کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کیا ہے کہ کس طرح وقف بورڈ کے سسی ای تواے آر شیخ کو پریشان کیاگیا اور حکومت کی جانب سے دباﺅڈالا گیا کہ وہ اس گھوٹالے کی شکایت پر کوئی کارروائی نہ کرے اور بالکل خاموش تماشائی بنارہے۔ وزیراعلی نے شیخ کی اس سلسلے میں کوئی مددکرنے کے بجائے نہایت غلط انداز سے ان کے ساتھ نانصافی کی اورڈاﺅن گریڈ کرکے وقف بورڈ سے نکال کر ایک بے کار سی جگہ پر لے جاکر شفٹ کردیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وقف بورڈ کی یہ 4532 مربع میٹر زمین جس پر یتیم خانہ بنایاجاتا تھا جس سے غریب ترین مسلمانوں کو فائدہ ہوتا۔ اسے خود حکومت نے مکیش امبانی کو 21کروڑ روپے میں بیچ دیا اور اس پرکسی بھی مسلمان لیڈر نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ ابو عاصم اعظمی جو مسلمان کے کاز کے بڑے چمپئن بنتے ہیں وہ بھی چپ سادھے بیٹھے رہے اور حکومتی سطح پر اتنی بڑی دھاندلی ہوتی رہی۔ نہ کسی نے عدالت میں جانے کی ضرورت محسوس کی اورنہ ہی کسی نے اس مسئلہ پر کوئی احتجاج کی آواز بلند کی اور آج یہ مسئلہ اگر سی ویسی میں آیا ہے تووہ بھی ایک جوشی کی بدولت جس کا ملت کے ان نام نہاد وقائدین میں کہیں شمار بھی نہیں ہوتا جو صرف ملت کے نام کی روٹی توڑتے ہیں۔ جوشی کہتے ہیںکہ پہلے تو حکومت کواس کاجواب دینا چاہئے کہ تقریبا پانچ سوکروڑ کی یہ جائیداد صرف ساڑھے اکیس کروڑ میں کیسے الاٹ کردی گئی۔ اب جبکہ یہ مسئلہ ابھرکر ملک گیر سطح پر آگیا ہے تو آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے مہاراشٹر کے اقلیتی وزیر کو اس مسئلہ پر احتجاجی خط ارسال کیا ہے کہ اس اراضی کی قیمت تین ہزار کروڑ سے بھی زائد ہے اس لئے یہ رقم فورا وقف بورڈ کو ادا کی جائے۔ لیکن جب آشیرواد کے تنازعے کے بعد مرکزی وزیر پوری عمارت کو ہی زمین بوس کردینے کی بات کرسکتے ہیں تو پھر یہ مطالبہ کیوں نہیں کیاجاتا کہ اس وقت کی کانگریس حکومت نے اپنے فائدے کے لئے اتنی بڑی دھاندلی کی تھی اور جب یہ دھاندلی ثابت ہوچکی ہے تو یہ پوری زمین وقف بورڈ کولوٹائی جائے تاکہ یہاں پر مجوزہ مسلم یتیم خانے کا قیام عمل میں آسکے۔ لیکن ہمارے ملک میں جو روایت رہی ہے اس میںشاید اس قسم کے اقدام کی گنجائش نہیںنکل پائے گی لیکن حکومت کا اصلی چہرہ تو سامنے آنا ہی چاہئے اور اس کے لئے اشیش جوشی اور پٹھان کی کوششوں کو جتنی طاقت فراہم کی جاسکتی ہے‘ اس میںکوئی کسر نہیں چھوڑی جائے۔

Editor's Pick

विदेशी तब्लीगी जमाअत के लोगों की रिहाई के लिए इम्पार का गृह सचिव को पत्र

मद्रास हाई कोर्ट के आदेश के बाद आने वाली बाधा को गृह मंत्रालय से दूर करने की अपील  नयी दिल्ली: इंसानी बुनियादों पर विदेशी तबलीगी जमात के लोग...

IMO Search Finder

Subscribe IMO

    Archive