Headlines

ممتا کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے

Posted by Indian Muslim Observer | 18 March 2011 | Posted in

انجم نعیم


ان دنوں بنگال میں آنے والے اسمبلی الیکشن ۔۔۔ مذید پڑھنے کے لیے عنوان پر کلک کریں





عبدالغنی بٹ کا سچ

Posted by Indian Muslim Observer | | Posted in

انجم نعیم






گذشتہ 20برسوں سے کشمیر میں مرکزی حکومت ۔۔۔ مذید پڑھنے کے لیے عنوان پر کلک کریں


















کیا سمجھوتہ ایکسپریس کے اصل مجرموں کو بچانے میں منموہن سرکار مصروف ہے؟

Posted by Indian Muslim Observer | 16 March 2011 | Posted in

انجم نعیم

فروری 2007ءمیں سمجھوتہ ایکسپریس میں بم دھماکے کئے گئے تھے‘ جس میں تقریباً 70مسافر‘ جس میں بیشتر پاکستانی مسافر تھے... مذید پڑھنے کے لیے عنوان پر کلک کریں





انٹرٹینمنٹ کے نام پر بے حیائی کا بازار گرم ہے

Posted by Indian Muslim Observer | 15 March 2011 | Posted in

انٹرٹینمنٹ کے نام پر بے حیائی کا بازار گرم ہے

 
انجم نعیم

ان دنوں ٹیلی ویژن کے مختلف چینلوں پر رئیلیٹی شوز کے نت نئے پروگراموں نے ایک ہنگامہ برپا کررکھا ہے۔ پرائم ٹائم میں دکھائے جانے والے یہ شوز کہیں ڈانس کا مقابلہ کرواتے نظرآتے ہیں تو کہیں گیت کاری اور موسیقی کا۔ کہیں کرتب بازیاں ہیں تو کہیں کامیڈی کی پھلجھڑیاں‘ کہیں ایک ہی گھرمیں ایک پوری ٹلی کی زندگی گزارنے کی معرکہ آرائی ہے تو کہیں دوسری دنیا میں لے جاکر اگلی زندگی کے راز اگلوانے کی کوشش۔کہیں عاشقوں کو ملانے تو کہیں میاں بیوی کے درمیان ہونے والی جوتم پیزار کو انصاف دلانے کی نوٹنکی۔ گویا زندگی کا شاید ہی کوئی گوشہ ہے‘ جس پر رئیلیٹی شوز نے اپنے کیمرے کو گاڑ کر اس کی بدنمائیوں کو آشکار کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔ کوئی ہارتا ہے تو روتا ہوا اور اپنے آنسو پوچھتا ہوا جارہے اور کوئی کامیاب ہوتاہے تو خوشی کے آنسو بہاتا اور کودتا پھاندتا چلاجارہاہے۔ ہارنے اور جیتنے‘ دونوں میں شریک امیدواروں کو فائدہ ہوتا ہے۔ کسی کو دولت ہاتھ آتی ہے تو کسی کو شہرت۔ خوش ہونے میں بھی فائدہ‘ جھگڑاکرنے میں اور شورکرنے میں بھی فائدہ۔ پروڈیوسرز کو تو کوئی جیتنے یا کوئی ہارے‘ ہر حال میں فائدہ ہی فائدہ۔ آنے والے لاکھوں لاکھ فون کالوں سے ہونے والی آمدنی الگ اور کروڑوں کے ملنے والے اشتہارات سے ہونے والی آمدنی الگ۔ اس لیے کئی برسوں سے شوجاری ہے اور اس میں عام دیکھنے والے اس طرح مدہوش ہیں کہ ان کو اپنے ہونے والے نقصان اور گھر میں زبردستی گھس آنے والی برائی اور بے حیائی کا احساس تک نہیں ہوتا۔

ان رئیلیٹی شوز کی اصل رئیلیٹی کیاہے‘ یہ ایک ایسی پوشیدہ حقیقت ہے کہ ناظرین کو احساس بھی نہیں ہوتا کہ انہیں کس کس انداز سے اور کس کس چمکدار پیکنگ میں لپیٹ کر کیا کیا خرافات پیش کی جارہی ہے اور کس طرح ان کی بدذوقی کی جذباتی دکانداری کی جارہی ہے۔ ووٹنگ کے نام پر فون کالوں سے ہونے والی آمدنی پروڈیوسروں کی تجوریوں کو تو ضرور بھرتی ہےں‘ لیکن وہ ووٹنگ کیا واقعی نتیجے پر ایماندار طریقے سے اثر انداز بھی ہوتی ہے۔ اس کے بارے میں بے شمار شکایتیں اور الزامات سامنے آچکے ہیں‘ لیکن ناظرین کا ہوس ذوق اس سے بے پرواہ مستقل ووٹ دینے اور اس کی قیمت ادا کرنے میں مصروف ہے۔

ابھیجیت ساونت ‘ سنجے ملاکار‘ دیبوجیت‘ بندو‘ دارا سنگھ‘شویتا تیواری‘ شلپا شیٹی اور ایسے ہی کئی نام ایسے ہیں‘ جن کو ایک دھاگے نے اپنے ساتھ پرورکھا ہے او وہ دھاگا ہے رئیلیٹی شوز میں کامیابی‘ دولت اورشہرت کے حصول کا ہے۔ ٹیلی ویژن نے ایک پلیٹ فارم عطاکیا اور کامیابی کی گاڑی چھک چھک کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگی۔ اس سے کون انکار کرسکتا ہے کہ ہندی فلم کی اداکارہ شلپا شیٹی کو جو کچھ اور جتنا کچھ صرف ایک رئیلیٹی شو بگ برادر سے حاصل ہوا‘ وہ انہیں اپنی 50فلموں سے بھی حاصل نہیں ہواتھا۔ صرف ایک رئیلیٹی شو سے شلپا شیٹی ملک سے لے کر مغرب کے بیشتر ملکوں میں ایک جانی پہچانی شخصیت بن گئیں اور آج پوری دنیا میں انہیں جاننے والوں اور ان کی قدر کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔2007 کے امریکن آئیڈل میں کامیاب ہونے والا ہندوسانی نوجوان سنجے ملاکار آج امریکن میوزک شوز کا مشہور ترین نام ہے ۔لکھنو ¿ کے ایک چھوٹے سے محلے میں رہنے والا غریب خاندان کا ایک چھوٹے قد کا نوجوان ونیت آج پورے ہندوستان میں اپنی گائیکی کی وجہ سے جانا پہچانا جاتاہے اور انڈین آئیڈل کی وجہ سے آج شاید ہی کوئی میوزیکل پروگرام ایسا ہوتا ہو جہاںونیت بحیثیت فنکار یا اینکر نہ بلایاجاتاہو۔ یہ ہے رئیلیٹی شوز کی وہ طاقت‘ جس نے امیدوار شرکاءسے لے کر تفریح کے شائقین کو دیوانہ بنارکھاہے۔ اپنی شوز میں ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ جیسا شو بھی ہے جو گھنٹے سے بھی کم وقت میں پچھلے چار برسوں سے کئی لوگوں کو کروڑ پتی بنارہاہے تو ’بگ باس‘ جیسا شو بھی ہے‘ جس میں راتوں رات پاکستان سے آئی ہوئی حسینہ وینا ملک اپنے ناز نخروں اور بے حیائی سے ہندوستان اور پاکستان دونوں جگہوں پر مختلف انداز میں قیامت برپا کررہی ہے۔

ایک اہم سوال یہ ہے کہ ہمارے یہ رئیلیٹی شوز اس قدر کامیاب کیوں ہورہے ہیں اور ان کی کامیابی کے پیچھے آخر انسانی جذبات کی کون سی نفسیات کام کررہی ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ مقابلے کے نام پر جو کچھ ہورہاہے‘ وہ سب ایک دکھاوا ہے‘ ایک چھلاوا ہے‘ ایک دھوکہ ہے۔اس کے باوجود لوگ ٹی وی سیٹ سے چمٹے ہوئے بیٹھے ہوئے ہیں اور اپنے پسندیدہ امیدواروں کے حق میں دھڑا دھڑ ووٹنگ کررہے ہیں اور ایک کال کے نام پر کئی کالوں کی قیمت ادا کررہے ہیں۔ اصل میں یہ ہمارے تھکے ہوئے یا پھر بے کار اور بے حس دماغ کو ایک قسم کی چور دروازے سے فرحت بخشتے ہیں۔ ہماری اپنی زندگی کی ننگی سچائیوں کی عکاسی کرتے ہیں اور ہمارے اندر کی پریشانی‘ لالچ‘ خوف اور لذت کوشی کی نفسیات کی پیاس بجھاتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہے کہ نیم بے ہوشی کرکے دوسری دنیا میں لے جاکر اگلے جنم کے راز جاننے کی کوشش میں مصروف اینکر ایک شعبدہ بازی کررہا ہے‘پھر بھی ہمیں اعتبار نہ ہونے کے باوجود قسمت کا حال بتانے والے صفحہ کو پڑھ کر جو ایک گونہ لطف حاصل کرتا ہے‘ وہی لطف ہم اس پروگرام سے حاصل کرتے ہیں۔ بگ باس میں وینا ملک آخر وقت تک اس لیے برقرار ہے کہ وہ ہماری لذت کوشی والی طبیعت کو غذا فراہم کرتی ہے ‘ ورنہ مقابلے میں شریک ایک پاکستانی امیدوار کو ہندوستان میں اس تسلسل اور اس بڑی تعداد میں کون ووٹ کرتاہے۔ دراصل یہ رئیلیٹی شوز انسانی جذبات کی تجارت کرنے کا ایک فن ہے اور چونکہ اس فن کو امریکی ماہرین نے نہایت ماہرانہ لیاقت سے سنوارا ہے اور اس لیے اس کی تجارتی اہمیت ہر ماحول اور ہر موضوع پر مسلم ہے۔

ہرٹیلی ویژن چینل کا بنیادی مقصد یہ ہوتاہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ کنزیومر مارکیٹ کو اپنے قبضے میں کرنے کی کوشش کرے اور اسی لیے پروگرام بناتے وقت بھی اس کا پورا خیال رکھاجاتاہے کہ صارفین کی عادت اور اس کی خواہش‘دونوں کو اس کی مطلوبہ چیزیں بہت حسین انداز سے فراہم کی جاسکیں اور اس کا بھی خیال رکھا جاتاہے کہ صارف تک پہنچنے اور اپنا مال اس کو پیش کرنے سے ایسے وقت کا انتخاب کیاجائے‘ جس وقت وہ ذہنی طورپر اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو اور اس کے سامنے دوسری مصروفیات حائل نہ ہوں کہ وہ پوری توجہ سے پیشکش کی طرف متوجہ ہی نہ ہوسکے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ تمام پروگرام پرائم ٹائم یعنی 7سے 9 بجے رات کے وقت پیش کئے جاتے ہیں‘ جس وقت عام طورپر لوگ اپنی تمام روز مرہ کی مصروفیات سے فارغ ہوکر ٹیلی ویژن سیٹ کے سامنے آکر بیٹھ جاتے ہیں۔ بعض وہ پروگرام جن میں پرائز منی ‘ یعنی کامیاب امیدوار کو رقومات دی جاتی ہیں‘ اس لیے بھی بہت شوق سے اس وقت دیکھے جاتے ہیں‘کیونکہ اس میں ہر ناظر کسی نہ کسی طرح سے خود کو اس میںموجود پاتا ہے یا پھرکوئی میوزیکل پروگرام جس میںہر شخص کوئی نہ کوئی اپنا امیدوار منتخب کرلیتا ہے اور اس کی کامیابی سے خود کو جوڑ لیتا ہے۔ ذی سائن کا پروگرام اسٹار کی کھوج‘ زی ٹی وی’سارے گاما‘ یا سونی کا انڈین آئیڈل یا کون بنے گا کروڑ پتی جیسے پروگرام لوگوں کو اسی اپنی ذہنی شمولیت کی وجہ سے باندھے رکھتے ہیں۔ یہ وہ تمام پروگرام ہیں جو امریکی ٹیلی ویژن پر پیش کئے جاتے ہیں اور ان کی نقل میں ہندوستان میں انکا سلسلہ شروع ہواہے۔ اس لیے عوامی نفسیات کا پورا پورا خیال رکھاجاتاہے او ر اس کو ہر سطح پر نچوڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

ہندوستان میںباضابطہ رئیلیٹی شوکاآغاز ’انڈین آئیڈل ‘ سے ہوا‘ جو بنیادی طورپر گائیکی کا ایک شوشا اور جو امریکی آئیڈل کو سامنے رکھ کر شروع کیاگیا تھا۔ یہ شو بہت مقبول ہوا اور چونکہ ملک کے مختلف حصوں سے امیدواروں نے اس میں شرکت کی نفی اس علاقائی طورپر امیدواروں کو مقبولیت حاصل ہوئی اورا نہیں فون کا ل کی شکل میں ووٹ ملے۔ یہ تجربہ اتنا کامیاب ثابت ہواکہ ہر انٹر ٹینمنٹ چینل نے کسی نہ کسی رئیلیٹی شو کا آغاز کردیا‘ لیکن جومقبولیت کون بنے گا کروڑپتی کو حاصل ہوئی ہے وہ دوسرے شوز کے حصے میں نہیںآئی‘کیونکہ اس کو امیتابھ بچن اور شاہ رخ خان جیسے عظیم اداکاروں نے اینکرنگ کیا تھا اور اسٹار ٹی کی اپنی مارکیٹنگ ٹیم تھی ‘ جو اس کو کامیاب بنانے میں تن من دھن سے لگی ہوئی تھی۔ اس شو کی کامیابی کے بعد تو جیسے رئیلیٹی شوز کی جھڑی لگ گئی۔پوپ اسٹار کی کھوج‘ بگ باس‘ وائس آف انڈیا‘ سارے گاما‘ دس کا دم‘ راکھی کا انصاف‘ جھلک دکھلاجا ‘ زور کا جھٹکا اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔ جیسے جیسے یہ سفر آگے بڑھتارہا‘ ٹی آر پی کے چکر میں عوام کو زیادہ سے زیادہ انٹرٹینمنٹ پیش کرنے کے نام پر بے حیائی کو زیادہ سے زیادہ بڑھاوا ملتا چلاگیا۔ گذشتہ دنوں بگ باس اور راکھی کا انصاف جیسے شوز‘ اس قدر بے حیائی میں آگے بڑھ گئے کہ لوگوں اور اداروں نے اس کے خلاف صرف ہنگامہ آرائی ہی نہیں کی‘ بلکہ ان شوز کے پروڈیوسروں کے خلاف عدالت میں مقدم بھی دائر کردیا۔ ان رئیلیٹی شوز میں سہاگ رات کے مناظر نہایت بے حیائی سے دکھائے گئے‘ راکھی کے شو میں ایک شخص کو باربار نامرد کہاگیا اور نہ جانے کیا کیا کگھ نہیں پیش کیا گیا۔ گندی گالیاں‘ جنسی مناظر ‘ ہیجان خیز ڈائیلاگ گویا کوئی ایسا گر نہیںبچا یا جسے ٹی آر پی حاصل کرنے کے لیے آزمایا نہیں گیا۔


 بگ باس میں تو بیہودگی کی تمام سرحد کو پار کرنے کی کوشش کی گئی۔ جنسی ہیجان خیزی کے ایسے ایسے مناظر دکھائے جانے لگے کہ گھر میں خاندان کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر یہ شو دیکھنا ناممکن ہوگیا۔ ہر ایپی سوڈ کے بعد یہ شو بےہودہ سے بیہودہ تر ہوتا چلا گیا۔ پہلے تو ڈولی بندرا کی گالیوں نے بے حیائی کی شروعات کی پھر پاکسانی اداکارہ وینا ملک اور اشمت پٹیل کے جنس زدہ کارناموں نے ایسے بے حیائی کی آخری منزل تک پہنچادیا اور یہ سب کچھ صرف شو کو کامیاب بنانے کے نام پر کیا گیا۔ خود اس شو میں شامل ایک امیدوار راہل بھٹ کہتے ہیں کہ جان بوجھ کر بعض ایسی عورتوں کو اس شو میں آخر تک برقرار رکھا گیاکہ وہ اپنی بے حیائی سے اس شو کو مزیدار بنائیں رکھیں۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس قسم کے رئیلیٹی شوز‘ ایک لکھی ہوئی اسکرپٹ کے مطابق آگے بڑھتے ہیں اور کس کو رکھنا ہے اور کس کو نکالنا ہے‘اس کا فیصلہ عوام کی ووٹنگ کی بنیاد پر نہیں ہوتاہے‘ بلکہ پروڈیوسر جس طرح خود چاہتاہے‘ اپنے شو کو آگے بڑھاتاہے۔ فلم اور ٹیلی ویژن رائٹرز ایسوسی ایشن کے ایک رکن کا کہناہے کہ شاید ہی کوئی رائٹر اس قسم گندی زبان کا استعمال کرسکتا ہے۔ یہ تو سراسر پروڈیوسر کا اپنا فیصلہ لگتاہے کہ اسے اپنے شو میں کس وقت کیا چیز پیش کرنی ہے۔ جس طرح سارا اور علی مرچنٹ کی شادی اور پھر اس کے بعد اس کے سہاگ رات کے مناظر دکھائے گئے‘ اس کو دیکھ کو اس کے علاوہ اور کیاکہا جاسکتاہے کہ یہ سب کچھ اسکرپٹیڈ تھا اور پروڈیوسر نے اپنی مرضی سے جو چاہا وہ دکھایا۔ راکھی کے انصاف میں جن لوگوں کو شو میں پیش کیاگیا ان کو پہلے سے کچھ اور بات بتائی گئی تھی‘ لیکن سیٹ پر لاکر جو بدتمیزی کا ماحول فلمایاگیا وہ خود شو کے شرکاءکے لیے حیرت زدہ کرنے والا اور حیرت ناک تھا۔ شو میں جھانسی کے لکشمن پرشاد کو باربار نامرد کہہ کر اتنا پریشان کیا گیاکہ اس نے بعد میں اپنی بے عزتی سے پریشان ہوکر خودکشی کرلی۔ یہ رئیلیٹی شوز اس وقت انٹرٹینمنٹ کے نام پرجس طرح لوگوں کے جذبات سے کھلواڑ کررہے ہیں‘ وہ ایک نہایت افسوسناک قسم کی روایت کی بنیاد ڈال رہے ہیں اور اگر میں پر لگام نہیں لگائی گئی تو یہ سلسلہ کس مقام پر جاکر ختم ہوگا‘ اس کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیںہے۔

مسلمان ہونے کا گناہ

Posted by Indian Muslim Observer | 11 December 2010 | Posted in , ,

مشہور صحافی ویر سنگھوی کے قلم سے

اگر آپ کو ہندوستانی سیکولرازم کی کامیابی اور ناکامی کا اندازہ لگانا ہو‘ تو اس کےلئے سب سے بہتر مثال یوسف خان المعروف دلیپ کمار کے کیریئر پر نگاہ ڈالنی کافی ہوگی‘جن لوگوں کا ہندی سنیما سے کچھ بھی تعلق رہا ہے‘ انھیں یہ کہنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہو گی کہ دلیپ کمار ہندی سنیما کا لا فانی کر دار ہے اور اس کی عظمت ہر دور کے لئے تسلیم شدہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کی عوامی زندگی ہمیشہ مثالی رہی ہے۔ بہت سارے سیاستدانوں سے اس کے قریب ترین تعلقات کے باوجود ‘اس کانام کبھی بھی کسی کرپشن یا اسکینڈل میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی کبھی کسی کے منہ سے یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ وہ ایک بے ایمان یا دولت پسند شخص ہے‘ بلکہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہماری فلم انڈسٹری کا سب سے غریب ترین اسٹار ہے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ دلیپ کمار کے پاس اس وقت جو کل سرمایہ ہے ‘اس سے زیادہ تو شاہ رخ خان کی صرف سالانہ آمدنی ہے ۔

پچاس کی دہائی میں وہ پہلا اسٹار تھا‘ جس نے اپنی مقبولیت کو عوامی فلاح و بہبود کےلئے استعمال کیا‘ اس نے جواہر لعل نہرو کو اپنی خدمات پیش کیں‘ جنھوں نے اپنے مختلف کازوں کو کامیاب بنانے کےلئے اس کا استعمال کیا ۔ساٹھ کی دہائی میں ہند- چین جنگ کے وقت اس نے جوانوں کےلئے پیسے جمع کئے اور 1965میں جب ہندوستان پاکستان کی جنگ چھڑی‘ تو اس وقت بھی اس نے سب سے آگے بڑھ کر مالی تعاون پیش کیا ۔ہر آنے والی حکومت نے معاشرے اور ہندوستان کی ترقی کے تئیں اس کی خدمات کا اعتراف کیا اور ہر بار اسے کوئی نہ کوئی نئی خدمت سونپی گئی ۔مثلاً وہ مسلسل 20سال تک ممبئی کا شیرف رہا اور ہر تقریب میں وہ دوسروں سے ممتاز نظر آیا۔

اس لئے آپ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہندوستانی سیکولرازم کا سب سے کامیاب چہرہ دلیپ کمار ہے‘ تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہوگا۔ وہ یقینا ایک سچا وطن پرست مسلمان ہے اور ہندوستان نے بھی اس کی زندگی میں ہی اسے ایک اساطیری کر دار بنا دیا‘لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ساری باتیں کہنے میں جتنی آسان ہیں‘ اصلیت میں اتنی آسان نہیں ہیں۔ اس سے الگ کہ وہ اپنی زندگی میں کتنا کامیاب رہا ‘ دلیپ کمار کو ہمیشہ اور ہر قدم پر یہ احساس دلایا گیا کہ وہ تو ایک مسلمان ہے اور اس کی ابتدا اس کے نام سے ہوئی‘ حالانکہ اس نے ہمیشہ اس کا انکار کیا کہ اسٹوڈیو نے اس کا نام دلیپ کمار صرف اس کی مسلم پہچان چھپانے کےلئے رکھا تھا‘ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اس زمانے کے بہت سارے مسلم اداکاروں کو جان بوجھ کراپنا اصلی خاندانی نام تبدیل کر نا پڑا تھا۔ اس وقت اسٹوڈیو یعنی فلمی دنیا کا عام خیال تھا کہ اگر آپ ایک ہندو ہیں‘تو فلم کی کامیابی کےلئے یہ ایک بڑی شرط پوری کر تے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ پچاس کی دہائی میںہندوستان میں بیشتر لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ دلیپ کمار واقعی میںیوسف خان ہے۔ اس وقت اخبارات میں بھی فلمی اداکاروں کے بارے میںزیادہ باتیں نہیں چھپتی تھیں‘ بس ایک فلمی میگزین ’فلم انڈیا‘شائع ہوتا تھا اور اس کی بھی پہنچ زیادہ نہیں تھی ۔نہ ٹیلی ویژن تھا اور نہ ہی آج کی طرح مختلف فلموں سے جڑے لوگوں کے عوامی پروگرام ہوا کر تے تھے ۔پیشکش اور اہلیت کی بنیاد پر فلم اسٹاروں کی مقبولیت ہوتی تھی‘ اس لئے دلیپ کمار کی جو بھی مقبولیت اور عظمت کا ڈنکا بجتا تھا‘ وہ بس اس کی اہلیت کی بنیاد پر ہی تھا۔

ساٹھ کی دہائی میں مسائل سامنے آنے لگے۔ اس کی فلم گنگا جمنا کوسینسر بورڈ نے روایت سے بالکل ہٹ کر کافی مشکلات میں ڈال دیا ۔سینسر بورڈ نے اس سے صاف صاف کہہ دیا کہ اس کی اس فلم کو ریلیز کرنے کی اس وقت تک اجازت نہیں دی جائے گی‘ جب تک اس فلم کے پچاس سین کو کاٹ کر نکال نہ دیا جائے ۔سینسر بورڈ کی اس ضد سے نہ صرف یہ کہ پوری فلم ہی تباہ ہوکر رہ جانے والی تھی‘ بلکہ بے ایمانی کا یہ عالم تھا کہ جو اعتراضات کئے جارہے تھے‘ ان میں بیشترا نتہائی لغو اور بے بنیاد تھے ۔مثلاً ایک سین تھا کہ ڈاکو چلتی ٹرین پر چڑھنے کی کوشش کررہے ہیں،اس سین پر اعتراض یہ تھا کہ ڈاکو اس سین کو دیکھ کر اسی طرح چلتی ٹرین پر چڑھنے کی کوشش کریں گے،اس لئے اس سین کو فلم سے نکال دیا جائے‘ لیکن اعتراض کی تو اس وقت انتہا ہو گئی‘ جب فلم کے آخری سین میں دلیپ کمار نے مر تے وقت ’ہے رام‘کہا تھا۔ اس پر سخت اعتراض کر تے ہوئے اسے فلم سے نکالنے کےلئے کہا گیا ۔دلیپ کمار نے پوچھا کہ اس پر آپ کو کیا اعتراض ہے‘تو جواب دیا گیا کہ یہ تو گاندھی جی کے آخری الفاظ تھے ۔یعنی یہ تو کوئی ہندو ہی مر تے وقت اپنی زبان سے ’ہے رام‘کہہ سکتا ہے‘ دوسرا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔یہی اس گنگا جمنا کا ذکر ہے‘ جسے آج ہندوستانی سنیما کا کلاسک کہا جاتا ہے ۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ کہ اس زمانے میں راج کپور کی فلم’جس دیش میں گنگا بہتی ہے ‘سنیما گھروں میںریلیز ہونے والی تھی‘ اس لئے سینسر بورڈ کو رشوت دیکر گنگا جمنا کی ریلیز کو رکوانے کی کوشش کی گئی تھی‘ لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ دلیپ کمار کو ہمیشہ یہ احساس رہا کہ اس سلسلے میںصرف اورصرف مذہبی عصبیت کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور اس کا مسلمان ہونا اس کی مصیبت کاسبب بنا۔

ٹھیک اس کے کچھ دنوںبعد ہی ایک اور افسوسناک واقعہ سامنے آیا اور وہ تو پہلے سے بھی بدترین تھا ایک دن کلکتہ سے ایک پولس پارٹی ممبئی پہنچی اور اس نے دلیپ کمار کے گھر پر چھاپہ مارا۔ پولس کاکہنا تھا کہ دلیپ کمار ایک پاکستانی جاسوس ہے اور وہ اسے گرفتار کر کے لے جانے آئی ہے۔ دلیپ کمار اور وہ بھی ایک جاسوس ‘یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ لیکن پولس کے پاس خفیہ ذرائع کی خبر تھی کہ دلیپ کمار پاکستان کو یہاں کی خبریںفراہم کرتا ہے‘ پولس کا کہنا تھا کہ اس کے پاس مصدقہ انفارمیشن ہے کہ دلیپ کمار نے وجنتی مالا کے بارے میں ساری معلومات پاکستان کوفراہم کی ہیں‘ بعد میں پتہ چلا کہ کلکتہ پولس نے ایک شخص کو پاکستانی جاسوس ہونے کے شک میں گرفتار کیا ہے اور اس کی ڈائری میں بہت سارے مشہور لوگوں کے نام درج تھے اور اس میں دلیپ کمار کا بھی نام تھا۔ہندوستانی پولس کی شاندار روایت کے مطابق اس نے اس سے فوراً یہ نتیجہ نکالا کہ ڈائری میںجتنے ہندوو ¿ں کے نام تھے‘ وہ تو جان پہچان والے لوگوں کے نام تھے ‘لیکن ان میں جو مسلمانوں کے نام تھے‘ وہ در اصل پاکستان کےلئے جاسوسی کرنے والوںکے نام تھے اور ان مسلمانوںمیںملک کا سب سے بڑا فنکار دلیپ کمار بھی تھا۔

اسی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہماری سوسائٹی میں مذہبی عصبیت کی جڑیں کتنی گہری ہیں کہ ملک کا سب سے بڑا فنکار‘ جو ملک کے وزیر اعظم نہرو کا ذاتی دوست ہے ‘وہ نہایت غلط بنیادوں پر صرف اس لئے پاکستانی جاسوس قرار دیا جاسکتا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہے ۔اگر اس ڈائری میں دیوآ نند کا نام درج ہوتا‘ تو یقینا کبھی بھی اس کے گھر پر پولس کا چھاپہ نہیں پڑتا ۔جواہر لعل کے وزیرا عظم ہونے کے باوجود دلیپ کمار کےلئے یہ ذپنی پریشانی کا سلسلہ کئی ماہ تک چلتا رہا اور ان کی ہرطرح سے انکوائری ہوتی رہی‘ لیکن کئی مہینے بعد جب پولس کو کوئی ثبوت ہاتھ نہیں آیا‘ تو پھر پولس نے اپنی کارروائی بند کی ‘لیکن پورے شہر میں دلیپ کمار کے پاکستانی جاسوس ہونے کی افواہ گشت کر تی رہی‘ خود دلیپ کمار نے اس پریشان کن پولس کارروائی کا اعتراف کیا۔ پورے شہر میں یہ افواہ پھیلا دی گئی کہ پولس نے اس کے بستر کے نیچے سے ایک ریڈیو ٹرانسمیٹر پر آمد کیا ہے اور وہ فلم انڈسٹری میں مسلمان جاسوسوں کا جو ایک گینگ ہے ‘اس کا لیڈر ہے ۔یہ افواہ صرف پولس نے ہی نہیں‘ بلکہ فلمی دنیا سے وابستہ کئی لوگوں نے باضابطہ پھیلائی اور دلیپ کمار کی پریشانی پر خوب مسرت کا اظہار کیا‘ لیکن ان تمام باتوں کے باوجود لیپ کمار کے اندر نہ کوئی تلخی پیدا ہوئی اور نہ ہی ان افسوسناک رویہ کی وجہ سے اس کے اندر کوئی مایوسی پیدا ہوئی‘ بلکہ اپنے فلاحی کاموں میں وہ اسی طرح لگا رہا اور جب 1965میںہندوستان اور پاکستان میں جنگ شروع ہوئی‘ تو اپنے فوجیوں کی مدد کےلئے پھر میدان میں اتر کر سر گرم عمل ہو گیا ۔
میں نے یہ واقعہ تفصیل سے ان لوگوں کےلئے لکھا ہے‘ جن کی یادداشت بہت کمزور ہے اور جوان دنوںدلیپ کمار پر اعتراض کر رہے ہیں کہ آخر دلیپ کمار بال ٹھاکرے کے اس بیان پر اس قدر برافروختہ کیوں ہے کہ دلیپ کمار کو پاکستان چلے جانا چاہئے‘ کیونکہ وہ اندر سے ہندوستانی نہیں ہے ۔ دلیپ کمارکی اس قدر خفگی کی وجہ یہ ہے کہ آخر اس سے ہی بار بار کیوں حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ طلب کیا جاتا ہے اور جب بھی وہ اپنے عمل اور کر دار سے اپنی حب الوطنی کا ثبوت پیش کر تا ہے‘ اسے ناکافی سمجھ کر اس سے زیادہ کا مطالبہ کیوں ہوتا ہے ؟

در اصل ٹھاکرے کی دلیپ کمار سے دشمنی پرانی ہے۔ 1967میں جب دلیپ کمار نارتھ بمبئی کے الیکشن کےلئے کرشنا مینن کی حمایت کر رہا تھا‘ تو اس وقت ٹھاکرے شیو سینا بناکر اوپر اٹھنے کی کوشش کررہے تھے اور انھوں نے کانگریس کے اشارے پر ان ملیالی لوگوں کو مارنا پیٹنا اوربمبئی سے بھگانے کی تحریک شروع کر رکھی تھی‘ جن لوگوں نے کرشنا مینن کی حمایت کی تھی‘ اس وقت فلمی دنیا کے تمام چھوٹے بڑے لوگ ٹھاکرے کے گھر پر جاکر حاضری دیا کرتے تھے‘ بس ایک دلیپ کمار تھا ‘جس نے کبھی بھی ٹھاکرے کے دربار میں حاضری نہیں دی۔ اس سے بڑی دشمنی اور کیا ہو سکتی تھی۔ اس بات کو ٹھاکرے کبھی بھلا نہیں پائے اور انھوں نے اسی وجہ سے دلیپ کمار کو کبھی معاف نہیں کیا ۔شیو سینا نے اس کے بعد اپنی مسلم مخالف تحریک شروع کی اور نشانے پر سب سے اوپر دلیپ کمار کا نام رہا۔ ایک سیکولر مسلم دلیپ کمار کو یہ کبھی منظور نہیں تھا کہ وہ ایک فاسشٹ کے دربار میں جاکر حاضری دے۔ اس کے بعد ہی شیو سینا کا دلیپ کمار پر حملہ کرنے کاسلسلہ شروع ہوا۔ بمبئی کے فساد کے وقت جب دلیپ کمار نے فساد سے متاثرہ لوگوں کی مدد شروع کی‘ تو یہ کام بھی شیو سینا کوبہت برا لگا اور اس نے بار بار دلیپ کمار کو اپنا نشانہ بنایا‘ یہاں تک کہ شیو سینا کے ایک ایم پی نے پارلیمنٹ میں دلیپ کمار کو غدار وطن تک کہہ کرمخاطب کیا اور بار ہا مطالبہ کیا کہ دلیپ کمار کو پاکستانی حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے سب سے بڑے اعزاز ’نشان امتیاز “ کوفوراً لوٹا دینا چاہئے ۔

دلیپ کمار کے خیال میں اب صبر کی انتہا ہو چکی تھی‘ اپنی عمر کی ساتویں دہائی میں اب اس کےلئے مزید بر داشت کرنا ممکن نہیں تھا‘ اس نے اپنی حب الوطنی کا ثبوت پیش کرنے کےلئے کافی کام کیا۔ اب اس عمر میںاس کےلئے بال ٹھاکرے سے بر سر پیکار رہنا بہت مشکل تھا اور وہ بھی اس حالت میں کہ مہاراشٹر کی کانگریس حکومت ٹھاکرے کی پشت پناہی کر رہی تھی ۔لہٰذا آخر میں اس نے خاموش ہوجانا ہی مناسب سمجھا۔

اب اس صورتحال میں ہندوستانی سیکولرازم کے بارے میں کیا کہا جاسکتا ہے کہ ملک کا ایک مقبول ترین مسلمان‘اپنی زندگی کے آخری دنوںمیں بھی شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس کی حب الوطنی پر مسلسل سوال کھڑے کئے جاتے ہیں‘ لیکن جس طرح دلیپ کمار کو اپنی پوری زندگی میں مذہبی عصبیت کا شکار ہونا پڑا‘ وہ ہم ہندوستانیوں کےلئے نہایت شرم کی بات ہے۔اگر دلیپ کمار جیسے شخص کےلئے ہمارا یہ رویہ رہا ہے‘ توپھر دنیا یہ کیسے یقین کرے گی کہ ہم اپنے ملک کے مسلمانوں کے ساتھ اچھا بر تاو ¿ کرتے ہیں۔

وقف بورڈ کی زمین پر امبانی کامحل

Posted by Indian Muslim Observer | 28 November 2010 | Posted in , ,

انجم نعیم

ممبئی کے مسلمانوں اوران کی مقامی تنظیموں کے احتجاج کے باوجود ممبئی کے نہایت اہم علاقے میںموجود 4532مربع میٹر انتہائی مہنگی زمین مکیش امبانی کو الاٹ کردی گئی جس پر اس وقت امبانی کی 27منزلہ شاندار عمارت کھڑی ہوئی ہے۔ مسلمانوں کی یتیم خانے کے لئے مختص اس زمین کو اونے پونے دام میں حکومت کے اعلی ذمہ داروں نے مکیش امبانی کو دے دیا اور سلامتی کے احتجاج کے باوجود نے تو مہاراشٹر کی کانگریسی حکومت نے اس سلسلے میں کوئی یقین دہانی کرائی اورنہ ہی کسی بھی سیاسی پارٹی سے وابستہ کسی مسلمان لیڈر نے اس پر آواز احتجاج بلند کی۔ آج یتیم خانے کی اس جگہ پر امبانی کا محل بن کر کھڑا ہوگیا اور رشوت کھاکر خاموش ہوجانے والے لوگ خاموش تماشائی بنے اپنی بے غیرتی کا ثبوت دے رہے ہیں۔ جن لوگوں نے اس پر آواز اٹھانے کی کوشش کی ان کواس طرح ڈرایا دھمکایاگیا کہ وہ مجبورہوکر ہاتھ پاﺅں باندھ کر بیٹھ گئے۔ لیکن ظلم اورناانصافی پر جتنا بھی پردہ ڈالنے کیکوشش کی جائے حقیقت بہرحال کبھی نہ کبھی سامنے آتی ہے اورجب اس وقت گھوٹالوں کے نرغے میں پھنسی ہوئی کانگریسی حکومت بے دست وپا نظرآرہی ہے تووقت کی اس آراضی کی اصلیت خود بخود سامنے آکر کھڑی ہوگئی ہے اورکانگریس کے اعلی ذمہ داران کی بے ایمانی اور زیادتی کا جیتا جاگتا ثبوت بن کر اپنے لئے انصاف کا مطالبہ کررہی ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ آدرش گھوٹالے سے بچ کر نکلنے کی کوشش میں مہاراشٹر کی یہ نئی حکومت وقف کی اس آراضی کے سلسلے میں ہونےو الی دھاندلی کے معاملے میں کیا رویہ اختیار کرتی ہے۔

آدرش سے بدترین گھوٹالہ

حقیقت تو یہ ہے کہ آدرش ٹاور گھوٹالہ سے وقف کی زمین کا یہ گھوٹالہ کہیں زیادہ بدترین اور کانگریس حکومت کی دھاندلی کا افسوسناک چہرہ پیش کرتا ہے اور اقلیتی امور کی وزارت کابیان سوفیصد درست ہے کہ ایسے توکرپشن کا سب سے کلاسیک کیس قرار دیاجاسکتا ہے۔ سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ وقف کی اس زمین کو اونے پونے دام میں امبانی کو الاٹ کرنے میں خود سابق کانگریسی وزیراعلی ولاس راﺅ دیش مکھ نے ذاتی دلچسپی اور جن لوگوں نے اس کے خلاف آواز اٹھانے کی کوشش کی‘ اگر وہ سرکاری عہدے دار تھے تو ان کو ڈرادھمکاکر چپ کرادیاگیا اور اگر غیر سرکاری قسم کے پیشہ ورسیاست داں تھے تو ان کی منہ بھرائی کرکے ان کی آواز بند کردی گئی۔ لیکن لاش جب سڑنے لگتی ہے تووہ جس طرح ابل کر پانی کی سطح پر آجاتی ہے اسی طرح اس وقت یہ گھوٹالہ ابھر کر سامنے آگیا ہے اور مجرموں اور جرم کی طرف زوردار انداز سے یہ اشارے کررہا ہے۔

ریلائنس انڈسٹری کے مالک مکیش امبانی کایہ 27منزلہ محل اس وقت سینٹرل ویجیلنس کمیشن کے راڈارپر ہے اور اس پر تحقیق وتفتیش چل رہی ہے کہ وقف کی یہ 4532 مربع میٹر آراضی کس طرح امبانی کو دیدی گئی اور اس معاملے میں کن کن لوگوں نے اپنا گھناﺅنا کردار ادا کیا ہے اور مسلمانوں کی جانب سے جب اس بے ایمانی کے خلاف آواز اٹھائی گئی توحکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کیا رویہ اختیار کیاگیا۔

یونین منسٹر برائے اقلیتی امور کے ایک ڈائریکٹر اشیش جوشی نے سی وی سی سے کہا ہے کہ وہ مہاراشٹر کیحکومت سے معلوم کرے کے اس انتہائی گھناﺅنے گھوٹالے کے سلسلے میں اس کی کیارائے ہے اور وہ اس پورے معاملے میں کیاکارروائی کر رہی ہے۔ سی وی سی کے ذرائع کے مطابق گذشتہ دنوں ویجیلنس کمشنروں نے اس معاملے میں صلاح ومشورہ کرنے کے بعد اپنے واچ ڈاگ باڈی سے کہا ہے کہ وہ اسٹیٹ گورنمنٹ سے اس شکایت کے بارے میں نہ صرف اس کی رائے معلوم کرے بلکہ امبانی بلڈنگ کے اس پورے تنازعے کے سلسلے میں تمام معلومات طلب کرے۔ اس وقت اس امبانی بلڈنگ کی قیمت ایک ارب سے 2ارب روپے تک بتائی جارہی ہے۔

سچائی چھپانے کی کوشش

اس سلسلے میں جب امبانی کے آفس سے وضاحت طلب کی گئی تو اس نے اس پر اظہار خیال سے انکار کردیا۔ البتہ اس کے ترجمان نے بڑی ڈھٹائی سے یہ بات ضرور کہی کہ یہ زمین مہاراشٹر وقف بورڈ کی نہیں ہے اور امبانی نے یہ زمین معقول قیمت ادا کرکے اپنے مصرف کے لئے خریدی ہے۔

سینٹرل ویجیلنس کمیشن کے ایک اعلی افسران کے مطابق چونکہ یہ معاملہ ریاست کی حکومت کا معاملہ ہے۔ اس لئے اس گھوٹالے کے سلسلے میں کسی بھی انکوائری کاحکم تو مہاراشٹر کی حکومت ہی دے گی اس لئے اس کے جواب کا انتظار کرناہوگا۔ سی وی سی مرکزی حکومت کے افسروں کی دھاندلیوں پر کارروائی کرتی ہے۔ اس لئے ہم تو ریاستی حکومت سے یہ گذارش کریں گے کہ وہ اس گھوٹالے کی سی بی آئی سے انکوائری کاحکم دے کیونکہ یہ مسئلہ بہت ہی حساس نوعیت کا ہے۔ اس اعلی افسر کے مطابق اس وقت مہاراشٹر میں کوئی ریاستی ویجیلنس کمیشن نہیں ہے اس لئے ساری کارروائی ریاستی حکومت کی جانب سے ہی کی جانی چاہئے۔

یونین وزارت برائے اقلیتی امور کے ڈائریکٹر اشیش جوشی نے 25اکتوبر کرپشن کا سب سے کلاسیک کیس کے عنوان سے جو سی وی سی کو تفصیلی خط لکھا ہے اس میں بہت صاف صاف کہاگیا ہے کہ کس طرح مہاراشٹر کے کرپٹ عوامی نمائندوں نے سسٹم کا غلط استعمال کیا اوردھاندلی کے ذریعہ وقف بورڈ کی زمین جو ایک یتیم خانہ کی تعمیر کے لئے مختص کی گئی تھی‘ اسے غیر قانونی طور پر ایک جانے پہچانے صنعت کار کو اپنا گھر بنانے کے لئے الاٹ کردیا۔ جوشی کہتے ہیں کہ اس کیس کو دیکھنے کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح کچھ بااختیار بارسوخ اور مالدار افراد اپنی دولت کے بل بوتے پر سرکاری کرپٹ ذمہ داروں کو بے ایمانی کرنے پر تیار کرلیتے ہیں۔ یہ تو بالکل ہی قانون اور دستوری سسٹم کامذاق اڑانے کی کوشش ہے اور یہ کام دھڑلے سے کیاجارہا ہے۔

شکایت پرشنوائی کیوں نہیں

اقلیتی امور کی وزارت کو مئی 2008میں مہاراشٹر وقف بورڈ کے ایک ممبر احمد خاں یوں پٹھان کی جانب سے اس گھوٹالے کے سلسلے میں ایک تحریری شکایت موصول ہوئی تھی۔ اس تحریری شکایت میں لکھا گیا تھا کہ اس گھوٹالے کے سلسلے میں جب اسٹیٹ وقف بورڈ کے سی ای او ‘ اے آر شیخ نے آواز اٹھائی تھی تو اس وقت کے کانگریسی وزیراعلی ولاس راﺅ دیش مکھ نے اے آر شیخ پرتادیبی کارروائی کرکے اس خاموش کرنے کی کوشش کی تھی۔ حکومت کی جانب سے اس قسم کے تقریبا دو درجن معاملات کو فائل میں بندکردینے کی ہدایت دی گئی تھی اور اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے شیخ پر باضابطہ دباﺅ ڈالا گیا تھا۔ احمد خان پٹھان سے اپنے خط میں لکھاتھا کہ ان تمامعاملات میں ریاست کے وزیراعلی دیش مکھ خود ذاتی طور پر شریک تھے اور وہ ذاتی اور پارٹی کے مالی فائدے کی خاطر بلڈروں کی مددکر رہے تھے۔ پٹھان کا یہ شکایتی خط جو اقلیتی امور کی وزارت کو نہایت تفصیل سے لکھاگیا تھااب اس کی کاپیاں سی وی سی کوفراہم کردی گئی ہیں۔ اس خط کے ساتھ مہاراشٹر حکومت کا بیان بھی منسلک کیاگیا ہے۔ اس وقت کی یونین اقلیتی امور کی وزارت اور مہاراشٹر کے سابق وزیراعلی اے آرانتولے کے نام لکھے اس خط میں پٹھان نے لکھا ہے کہ آپ خوب واقف ہیں کہ مسلمان روایتی طور پر کانگریس کے خیر خواہ اوران کا ووٹ بینک رہے ہیں اوروہ مسلمانوں کے ووٹ کے بدولت ہی کانگریس اقتدار میں آتی رہی ہے۔ اب کانگریسی وزیراعلی دیش مکھ کی اس شرمناک حرکت کے بعد کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مسلمان خاموش رہیںگے اور کانگریس ان کے ووٹو سے محروم نہیں ہوجائے گی۔ پٹھان نے اپنے اس خط میںکانگریسی حکومت کے اعلی ذمہ داروں کی کھلی ہوئی اس دھاندلی کاتفصیل سے ذکر کیا ہے لیکن حیرت ہے کہ نہجانے کون سی مصلحت درپیش تھی کہ انتولے جیسے ذمہ دار شخص بھی دو سال تک اس خط پر خاموشی سادھے بیٹھے رہے اور انہوںنے ایک ذمہدار عہدہ دار ہوتے ہوئے بھی آگے کی کوئی کارروائی نہیں کی

یونین منسٹری برائے اقلیتی امور کے ڈائریکٹر اشیش جوشی نے سی وی سی کو جو خط لکھا ہے اس میں پٹھان کے خط کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کیا ہے کہ کس طرح وقف بورڈ کے سسی ای تواے آر شیخ کو پریشان کیاگیا اور حکومت کی جانب سے دباﺅڈالا گیا کہ وہ اس گھوٹالے کی شکایت پر کوئی کارروائی نہ کرے اور بالکل خاموش تماشائی بنارہے۔ وزیراعلی نے شیخ کی اس سلسلے میں کوئی مددکرنے کے بجائے نہایت غلط انداز سے ان کے ساتھ نانصافی کی اورڈاﺅن گریڈ کرکے وقف بورڈ سے نکال کر ایک بے کار سی جگہ پر لے جاکر شفٹ کردیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وقف بورڈ کی یہ 4532 مربع میٹر زمین جس پر یتیم خانہ بنایاجاتا تھا جس سے غریب ترین مسلمانوں کو فائدہ ہوتا۔ اسے خود حکومت نے مکیش امبانی کو 21کروڑ روپے میں بیچ دیا اور اس پرکسی بھی مسلمان لیڈر نے کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ ابو عاصم اعظمی جو مسلمان کے کاز کے بڑے چمپئن بنتے ہیں وہ بھی چپ سادھے بیٹھے رہے اور حکومتی سطح پر اتنی بڑی دھاندلی ہوتی رہی۔ نہ کسی نے عدالت میں جانے کی ضرورت محسوس کی اورنہ ہی کسی نے اس مسئلہ پر کوئی احتجاج کی آواز بلند کی اور آج یہ مسئلہ اگر سی ویسی میں آیا ہے تووہ بھی ایک جوشی کی بدولت جس کا ملت کے ان نام نہاد وقائدین میں کہیں شمار بھی نہیں ہوتا جو صرف ملت کے نام کی روٹی توڑتے ہیں۔ جوشی کہتے ہیںکہ پہلے تو حکومت کواس کاجواب دینا چاہئے کہ تقریبا پانچ سوکروڑ کی یہ جائیداد صرف ساڑھے اکیس کروڑ میں کیسے الاٹ کردی گئی۔ اب جبکہ یہ مسئلہ ابھرکر ملک گیر سطح پر آگیا ہے تو آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے مہاراشٹر کے اقلیتی وزیر کو اس مسئلہ پر احتجاجی خط ارسال کیا ہے کہ اس اراضی کی قیمت تین ہزار کروڑ سے بھی زائد ہے اس لئے یہ رقم فورا وقف بورڈ کو ادا کی جائے۔ لیکن جب آشیرواد کے تنازعے کے بعد مرکزی وزیر پوری عمارت کو ہی زمین بوس کردینے کی بات کرسکتے ہیں تو پھر یہ مطالبہ کیوں نہیں کیاجاتا کہ اس وقت کی کانگریس حکومت نے اپنے فائدے کے لئے اتنی بڑی دھاندلی کی تھی اور جب یہ دھاندلی ثابت ہوچکی ہے تو یہ پوری زمین وقف بورڈ کولوٹائی جائے تاکہ یہاں پر مجوزہ مسلم یتیم خانے کا قیام عمل میں آسکے۔ لیکن ہمارے ملک میں جو روایت رہی ہے اس میںشاید اس قسم کے اقدام کی گنجائش نہیںنکل پائے گی لیکن حکومت کا اصلی چہرہ تو سامنے آنا ہی چاہئے اور اس کے لئے اشیش جوشی اور پٹھان کی کوششوں کو جتنی طاقت فراہم کی جاسکتی ہے‘ اس میںکوئی کسر نہیں چھوڑی جائے۔

عدالتیں مسلمانوں کا واٹر لُو

Posted by Indian Muslim Observer | | Posted in

آخر ہم بار بار عدالتوں میں اپنی جنگ کیوںہارجاتے ہیں؟

 احمد جاوید

مسلم یونیورسٹی اور جامعہ کے اقلیتی کردار کامسئلہ ہو یا شریعت میں مداخلت کا قضیہ یا پھر بابری مسجد کی طویل ترین قانونی جنگ‘ یہ اس ٹریجڈی کی چند بڑی مثالیں ہیں‘ جس سے اس ملک میں مسلمانوں کو ہردن گذرنا پڑتا ہے۔

ہم اپنی جنگ ملک کے آئین وقانون‘ نظام حکومت اور عدلیہ کی زمینی سچائیوں کو سامنے رکھ کر نہیں لڑتے اور مخالفین کو وہ سب کچھ کرنے کا موقع خود ہی فراہم کرتے ہیں‘ جن پر بعد میں سینہ کوبی کرتے ہیں۔ اسی کی مثال مسلم یونیورسٹی کا تازہ معاملہ بھی ہے اور بابری مسجد کیس میں وقف بورڈ کا کچا پکا مقدمہ بھی۔

مستند ماہرین ومحققین کی موجودگی میں وقف بورڈ کا ان لوگوں کو عدالت کے سامنے بحیثیت ایکسپرٹ پیش کرنا‘ جن کی معلومات اخباروں کی رپورٹوں پر مبنی تھی اور جنہوں نے اجودھیا دیکھا تک نہیں تھا‘بورڈ کے وکلاءکی کونسی سنجیدگی تھی۔ کہیں ہمارے وکیلوں نے بھی اخبارات کی رپورٹیں اور سیاست دانوں کے بیانات پڑھ کر تو بحث کی تیاری نہیں کی تھی۔

ہندوستانی عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری اپنی جگہ مسلم‘ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہماری عدالتیں ملک کے مسلمانوں کے لئے ہمیشہ واٹر لو کامیدان ثابت ہوئی ہیں جہاں وہ اپنی ہر جنگ ہارتے آئے ہیں‘ جس کے لئے خود مسلمان بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں‘ جتنا ملک کا دیمک زدہ نظام اور انگریزوں کے زمانے کے وہ قوانین‘ جن میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی کہاوت کو عملی جامہ پہنانے کی بے پناہ گنجائشیں موجود ہیں۔

زیادہ تکلیف دہ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے مسلمانوں کی جو حالت ایک دور افتادہ وپسماندہ گاﺅں میں ہے‘ جہاں جہالت اور ناداری ڈیرہ ڈالے ہوئی ہے‘ وہی حالت قومی سطح پر بھی ہے۔ دہلی او ر لکھنو ¿ کے مٹھوں میں براجمان ملت کے مہنتوںکی حالت بھی گاﺅں کے پھول حسن میاں سے مختلف نہیں۔

یہ 1970 کی دہائی کا واقعہ ہے۔ شمالی بہار کے ایک دور افتادہ وپسماندہ گاﺅں کے قبرستان پر پڑوسی گاﺅں کے ہریجنوں نے قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ جنتاپارٹی کا دورحکومت تھا اور ان کے حوصلے بے حد بڑھے ہوئے تھے۔ کانگریس سے مسلمانوں کی دوری برہمنوں کے لئے سوہان روح تھی۔ وہ ان سے خارکھائے بیٹھے تھے۔ حکومت نے بے زمین مزدوروں میں زمین کی تقسیم کی مہم چلائی‘ تو انہوں نے اپنی بستی کے پاسوانوں کو بہکا دیا کہ اگر تم لوگ قبرستان کو جوت لو‘تو بہ آسانی اس پر تمہارا قبضہ ہوجائے گا‘ کیونکہ یہ بھی سرکاری زمین ہی ہے۔ وہ ہتھیاروں سے لیس ہوکر اور دوسری بستیوں کے سینکڑوں ہریجنوں کو بھی ساتھ لے کر قبرستان پر ہل چلانے آگئے‘ لیکن اس سے پہلے کہ قتل وغارت کابازارگرم ہوتا‘ پولس حرکت میں آگئی۔ اور اس نے مسلمانوں کی رپورٹ پران کے خلاف کارروائی کی۔دو مقدمے قائم کردئیے۔ایک تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت فرقہ وارانہ فساد بھڑکانے‘بلوائیوں کی بھیڑ جمع کرنے‘ امن عامہ کو نقصان پہنچانے‘قبرستان پر حملہ کرکے توڑ پھوڑ کرنے اور بزور طاقت قبضہ کرنے کی کوشش جیسے جرائم کا۔ دوسرا مقدمہ ضابطہ فوجداری کی دفعات 144اور 145کی کارروائی تھی۔ پہلے مقدمہ میں قبرستان پر حملہ کرنے‘ فساد بھڑکانے ‘مارپیٹ اور توڑپھوڑ کرنے کے مجرموں کو اس لئے کوئی سزا نہیں ہوسکی کہ سماعت کے دوران گواہوں میں سے ایک پھول حسن میاں‘ جو گاﺅں کے خود ساختہ رہنما تھے‘وکیل استغاثہ کے مشورے کے مطابق بیان دینے کے بجائے اپنی عقل کے گھوڑے کو لگام نہ دے سکے۔ وہ اپنے آپ کو قانون دانوں سے زیادہ سمجھ دار اور وکیلوں سے زیادہ جانکار تصور کرتے تھے۔ وکیل صفائی نے دوران جرح ان کی خوب تعریف کی۔ آپ تو گاﺅں کے سرپرست‘ رہنماا ور بااثر آدمی ہیں۔ ہندو مسلمان سب آپ کی بات مانتے ہیں۔ جھگڑے سے پہلے آپ نے دونوں فریق کو سمجھانے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ جھوٹی تعریف نے ان کی عقل چھین لی اور جوش خود ستائی میں انہوں نے کہا کہ ’ہم نے کوشش کی تھی۔ تھوڑی دیر تک ادھر ادھر گھمانے کے بعدوکیل نے دوسرا سوال کیا کہ جب آپ کی بات اطراف کے گاوﺅں کے بڑے بڑے لوگ نہیں ٹالتے‘ تو یہ ہریجن جو آپ کے کھیت کے مزدور ہیں‘ ان پر آپ کے سمجھانے کا کوئی اثر نہیں ہوا؟ ان کا جواب تھا” ہم موقع پر تھوڑی دیر سے آئے تھے‘ ہمارے آنے کے بعد وہ چلے گئے“ کیا آپ نے پنچایت سے تنازعہ حل کرانے کی کوشش کی تھی؟ جواب تھا کہ”کوشش کی تھی“ حالانکہ فساد کے وقت موصوف نہ گاﺅں میں تھے اور نہ موقع پر پہنچے تھے۔ وہ پولس کے آنے اور سارا ہنگامہ ٹھنڈا ہوجانے کے بعد وہاں تشریف لائے تھے۔ لیکن نیتا جوٹھہرے‘ ہر معاملے میں آگے آگے نظرآنا اور سارا کریڈٹ اپنے سرلے لینا ان کا حق تھا۔ عدالت جو یقینا پہلے سے تیار بیٹھی تھی‘ ملزمین کو اس ایک گواہی کی بناپر بری کردیا۔ موصوف کی خودستائی نے سارے الزام دھودئیے اور جو ڈیشیل مجسٹریٹ نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دونوں فریق میں زمین کا تنازعہ پہلے سے چلا آرہا تھا اور جب ان سے کہاگیا کہ پنچایت سے تصفیہ کرلیں‘ تو متنازعہ اراضی پر ہل چلانے کے لئے آنے والے لوگ واپس چلے گئے‘ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ دنگا‘فساد یا مارپیٹ کی نیت سے نہیں آئے تھے۔ دوسرے گواہوں کے بیانات کو فرقہ وارانہ جذبات اور جوش عداوت سے متاثر محمول کرلیاگیا ۔ دفعہ 145 کی کارروائی آٹھ نوسال چلتی رہی اور ایس ڈی او کی عدالت نے بعد میں دونوں فریق کی عدم پیروی کی بناپر مقدمہ کو داخل دفتر کردیا۔ اس وقت اس قبرستان پر اگرچہ ان میں سے کسی فریق کا قبضہ نہیںہے۔ سرکاری کاغذات اور سروے کے دستاویزات میں قبرستان درج ہے‘ لیکن اب جبکہ اس واقعہ کو پچیس تیس سال سے زیادہ کا عرصہ گذر چکا ہے‘ وہی ہریجن اس پر اپنے قبضہ کا دعویٰ کردیں‘ پچھلے سارے ثبوت مٹانے میں کامیاب ہوجائیں اور اس مدت میں بنا لئے گئے جعلی ثبوت پیش کریں اور مسلمانوں کے پاس نہ تو اس زمین کی ملکیت کا کوئی اصلی اور پختہ ثبوت ہو‘ نہ 144 اور 145 کی کارروائی کا اور قدیم کاغذات میں مالکانہ حق ریاست کے نام درج ہو‘تو کسی قانون داں سے پوچھ لیجئے کہ فیصلہ کس کے حق میں آئے گا؟ اور وہ بھی اس حالت میں کہ جب عدالت کاجھکاﺅ آپ کے خلاف ہو؟

گاﺅں سے راجدھانی تک

الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو ¿ بنچ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنایا‘ تو بہار کے ایک دور افتادہ گاﺅں کے قبرستان کا یہ قضیہ میرے ذہن کے پردے پر کسی ٹریجڈی فلم کی طرح گھوم گیا۔ یہ اس ملک میں کسی ایک قبرستان کا قصہ نہیں ہے‘ ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کی ہزاروں موقوفہ اراضی‘ قبرستان‘ عیدگاہ‘ امام باڑے‘ مزارات اور دوسری جائیدادوں پر اسی طرح غیر مسلموں کا قبضہ ہوگیا اور بے چارے مسلمان سینہ کوبی کرتے رہے۔ ہندوستانی عدلیہ کی آزادی اور غیر جانبداری اپنی جگہ مسلم‘ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہماری عدالتیں ملک کے مسلمانوں کے لئے ہمیشہ واٹر لُو کا میدان ثابت ہوئی ہیں۔جہاں وہ اپنی ہرممکن کوشش کے باوجودہارتے آئے ہیں۔ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردار کا مسئلہ ہو یا شریعت میں مداخلت کا قضیہ یاپھر بابری مسجد کی طویل ترین قانونی جنگ‘ یہ تو اس ٹریجڈی کی چند بڑی مثالیں ہیں‘ جس سے اس ملک میں مسلمانوں کو ہر دن گذرنا پڑتا ہے‘ہماری عدالتیں آئے دن ایسے فیصلے اوراحکامات جاری کرتی رہتی ہیں‘ جن پر ہم آہیں بھرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے لیکن افسوس تو یہ ہے کہ اس کے لئے عموماً خود مسلمان بھی اتنے ہی ذمہ دار ہوتے ہیں‘ جتنا ملک کا دیمک زدہ نظام اور انگریزوں کے زمانے کے وہ قوانین‘ جن میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی کہاوت کو عملی جامہ پہنانے کی بے پناہ گنجائشیں موجود ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ ملک کے مسلمانوں کی جو حالت ایک دور افتادہ وپسماندہ گاﺅں میں ہے‘ جہاں جہالت اور ناداری ڈیرہ ڈالے ہوئی ہے‘ وہی حالت قومی سطح پر بھی ہے‘ دہلی اور لکھنو ¿ میں بھی صورت حال مختلف نہیں۔ ملت کے خود ساختہ لیڈروں میں اپنے سرسہراباندھنے کی وہی حد سے بڑھی ہوئی خواہش جو ہمارا ہرکام بگاڑ دیتی ہے‘ وہی خود سری اور ہمہ دانی‘ وہی بے صبری اور ہلکا پن‘ماہرین قانون کی باتوں کو سنجیدگی سے لینے اور ان کا مشورہ ماننے کے جذبہ کا وہی فقدان‘ جو گاﺅں کے پھول حسن میاں میں ہے‘قومی سطح کے ملی قائدین میں بھی ہے۔ دہلی اور لکھنو ¿ کے مٹھوں میں براجمان ملت کے مہنتوں کی حالت بھی پھول حسن میاں سے مختلف نہیں‘ بلکہ ہر شاخ پر ایک پھول میاں بیٹھا ہے‘ جو ملک کے آئین و قانون کی باریکیوں کو سمجھے بغیر ماہرانہ رائے بھی دیتا ہے اور ملت کی قسمت کے فیصلے بھی کرتا ہے۔ یہ نادان چپ بیٹھنے سے بھی عاجز ہیں‘ کیونکہ ان کو ہر وقت اپنی دوکان اونچی اٹھانے کی فکر دامن گیر رہتی ہے۔ ذراسی تعریف کیا ہوئی‘ یہ اپنے آپے میں نہیں رہتے‘ کسی نے مسکراکر دیکھ لیا‘ یہ قربان ہوگئے۔ ان میں سے ہر شخص قائد اعظم ہے‘ سب سے بڑا سیاست داں‘سب سے بڑا ماہر قانون‘ سب سے بڑھ کر دانشور‘ قائد اور امام۔ ہمارے علماءوفقہا کو آپسی مجادلوں سے ہی فرصت نہیں کہ وہ آئین وقانون کی باریکیوں پر غور کریں‘ وہ ایک دوسرے کو زیر کرنا معراج علم تصور کرتے ہیں۔ ہمارے سیاست داں اخباروں میں چھپنے اور ٹی وی پر چمکنے کو معراج سیاست سمجھتے ہیں۔اس کے لئے وہ کچھ بھی کریں گے‘ اس سے کیا غرض کہ کوئی ان سے کیو ںاور کیا کہلوانا چاہتا ہے۔سیاسی جماعتوں کے بڑے لیڈروں کی خوشنودی ان کی منزل ہے۔ ہمارے صحافی افواہیں پھیلانے اور سیاست کا روں کا اشتہار کرنے کو صحافت سمجھتے ہیں۔ ہمارے قانون دانوں کی قانون کے علاوہ دنیا بھر کی سرگرمیوں میں دلچسپی ہے اور زعم ایسا کہ سول کورٹ سے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک تنہا ہی میدان سرکرلینا چاہتے ہیں۔ اگر اس وقت آپ کے سامنے بابری مسجد رام جنم بھومی کیس کے فیصلے ہوں‘ تو ایک بار پھران پر نظرڈالیں‘ اجودھیا کی عدالتوں سے ہائی کورٹ تک کیا سب کچھ وہی نہیں ہوا‘ جو بہار کے ایک دور افتادہ وپسماندہ گاﺅں میں ہوتا ہے۔

بابری مسجد پر 1949 میں ضابطہ فوجداری کی دفعات 144و 145 کے تحت کی گئی کارروائی کا کوئی ثبوت اس وقت آپ کے پاس نہیں تھا‘ جب 1986 میں ضلع جج نے تالاکھولنے کاحکم دیا۔ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس مدت میں وہ ثبوت مٹادئیے گئے مگر کیوں؟ دوسرے تو ہر ممکن قانونی داﺅ پیچ میں مصروف تھے۔ حکومت اور اس کے مختلف محکمے ثبوت بنانے اور مٹانے میں ان کی مدد کر رہے تھے اور یہ اس ملک میں ہمارے لئے کوئی غیر متوقع عمل نہیں تھا‘ لیکن آپ؟ آپ تو ان کا غذوں اور نوٹسوں کی بھی حفاظت نہیں کرسکے‘ جو144اور 145کی کارروائی کے سلسلے میں جاری کئے جاتے ہیں‘ چہ جائےکہ عدالت کی مکمل کارروائی اور پولس کی تمام رپورٹیں محفوظ ہوتیں۔ وہ تو کہئے کہ 23دسمبر 1949 کو اجودھیا کے رام جنم استھان تھانہ میں ایک غیر مسلم سپاہی کی اطلاع پردرج کی گئی ایف آئی آر محفوظ رہ گئی اور ہندوﺅں کی جانب سے کئے گئے دو مقدموں میں مسلمانوں(ظہور احمد وغیرہ) کو مدعا علیہ(فریق ثانی) بنایاگیا‘ ورنہ ہائی کورٹ متنازعہ اراضی پر شاید آپ کا اتنا استحقاق بھی تسلیم نہیں کرتی جتنی 30ستمبر کے فیصلے میں کی گئی ہے‘لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اسی کو مقدر سمجھ کر ہم خاموش بیٹھ جائیں‘ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس سے سبق لے کر انصاف کی جنگ کو صحیح سمت میں آگے بڑھائیں اور پھر وہی غلطی نہ دوہرائیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہرگز نہیں کہ ان حیلوں اور جعلسازیوں کی بنیاد پر دیا گیا فیصلہ جائز ہے۔

اصل مجرم

اس میںکسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہ گئی ہے کہ بابری مسجد پر دفعہ 144‘ اور 145 کی کارروائی کی گئی تھی اور اسی کارروائی کے تحت لگائے گئے تالے یکم فروری 1986تک مسجد کے دروازوں پر موجود تھے‘ جس کی تائید ان مقدموں سے بھی ہوتی ہے‘ جو 16جنوری 1950 کو گوپال سنگھ وشار د اور دسمبر 1950 میں مہنت پرم ہنس رام چندر داس نے کیا تھا ‘دونوں مقدمے مسلمانوں کے نام کئے گئے تھے ۔ لیکن جب جنوری 1986میں وشووہندو پریشد کے ایک وکیل اکھلیش چندر پانڈے نے اپنی عرضی میں یہ دعویٰ © کیاکہ تاریخی عمارت کے دروازوں پر لگائے گئے تالے غیرقانونی ہیں‘ سرکاریا عدالت نے کبھی ایسا کوئی حکم دیاہی نہیں‘ تو اس کے خلاف کوئی واضح اور پختہ ثبوت کسی کے پاس نہیں تھا۔ یقیناایک خاص مدت کے بعد اس کارروائی کے کاغذات یا تو عدالت (ایس ڈی ایم ‘صدر فیض آباد) نے خودد ہی تلف کردئیے‘ جیسا کہ عام طور پر کردیاجاتا ہے یاپھر وہاں سے یہ ثبوت سازش کے تحت مٹائے گئے۔ دونوں صورت میں اصل مجرم ہم خود ہیں۔ قاعدے کے مطابق اس کارروائی کے پختہ ثبوت فریقین کے پاس ہونے چاہئیں اور چونکہ معاملہ منصف کی عدالت میں زیر سماعت تھا‘ اس لئے اس کی فائلیں وہاں منتقل کرادینی چاہئیں‘ لیکن ہمارے وکیلوں ‘گواہوں اور مدعیوں کو آج تک اس کاکوئی علم نہیں ہے کہ یہ ثبوت کہاں گئے۔ یہ مقدمہ تقریباً 42 برسوں تک فیض آباد کی عدالتو ںمیں رہا اور اس کے بعد 21برسوں تک ہائی کورٹ کی خصوصی بنچ میں اس کی سماعت ہوئی۔ 6دسمبر 1992تک مسجد کی عمارت موجود تھی اور اس پر وہ کتبہ بھی‘ جس میںمسجد کا سن تعمیر اور اسے تعمیرکرانے والے کا نام درج تھا۔مسجد کی عمارت اور اس کا کتبہ سب سے پختہ ثبوت تھے‘ جو سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مٹادئیے گئے۔ یہ الگ بحث ہے کہ اس کی جگہ کہیں اور سے لایاگیا ایک قدیم شلا لیکھ اور کچھ منقش ستون کہاں سے لاکر وہاں ڈالے گئے ۔ اصل سوال تو یہ ہے کہ 1950 سے 1992تک 42 سال کی طویل مدت میں ہم نے ایک بار بھی عدالت سے مسجد کے اس کتبہ کا مشاہدہ نہیں کرایا۔ سنی سینٹرل وقف بورڈ نے 1961 میں ملکیت کا مقدمہ کیا۔ ایک طفل مکتب بھی جانتا ہے کہ ٹائٹل سوٹ کوئی پولس کی ایف آئی آر نہیں ہوتی کہ کوئی بھی اٹھا اور جاکر درج کرادیا۔ مقدمہ تیار کرنے سے پہلے بھرپور قانونی تیاری کی جاتی ہے‘ ہر دعویٰ ثبوتوں کی بنیاد پر کیاجاتا ہے اور یہ نکتہ ہر وقت ملحوظ رکھا جاتا ہے کہ ہمارے کسی بیان سے فریق مخالف کے کسی دعوے کو تقویت تونہیں پہنچی ہے ۔ لیکن بابری مسجد کیس میں وقف بورڈ کے دعوے کی سنجیدگی کا اندازہ آپ اس سے لگاسکتے ہیں کہ اس نے دعویٰ کیا کہ یہ مسجد بابر کے ذریعے تعمیر کرائی گئی تھی اور بادشاہ نے اس کے لئے باضابطہ وظیفہ جاری کیا تھا‘ لیکن وہ اس دعوے کو عدالت میں ثابت نہیں کرسکا اور یہ ممکن بھی نہیںتھا۔ بورڈ نے اپنی عرضی میں یہ بھی تحریر کیا کہ 1934 کے فرقہ وارانہ فسادات میں اس مسجد کو نقصان پہنچایاگیا تھا اور 1949میں اس میں مورتی رکھ دی گئی‘ تب سے متنازعہ جائیداد دفعہ 145کے تحت چلی آرہی ہے۔
آپ کو معلوم ہے کہ ہائی کورٹ کے تینوں ججوں نے متفقہ طور پر وقف بورڈ کا دعویٰ خارج کردیا۔ گویا اس مقدمہ سے مسجد کے حق میں کوئی فائدہ تو نہیں ہوا‘ لیکن اس سے اول تو فریق ثانی کا قبضہ ثابت ہوتاہے۔ دوم ان کے اس دعوے کو تقویت پہنچتی ہے کہ متنازعہ اراضی پہلے سے متنازعہ چلی آرہی تھی۔ جب متنازعہ جائیداد دفعہ 145کے تحت حکومت کے مقررکردہ ریسیور کے پاس تھی اور اس پر لگائے گئے تالے سرکاری تھے توفریق ثانی یا مدعا علیہ بھی اسی کو بنانا تھا‘ جیسا کہ نرموہی اکھاڑے نے 1949 میں مقدمہ کیا‘ تو مسلمانوں کو فریق بنانے کے بجائے بابو پریہ دت رام(ریسیور) کو فریق بنایا۔ 1934 کے فرقہ وارانہ فساد کے ذکر کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ بھلا اس سے ملکیت کے مقدمہ میں آپ کے دعوے کو کیا فائدہ ہوسکتا تھا۔ آپ نے خود ہی فریق مخالف کے اس دعوے کو تقویت پہنچائی کہ مسجد پہلے سے متنازعہ چلی آرہی تھی اور 1949 میں مورتی رکھنے سے اچانک اس تنازعہ کا آغاز نہیں ہوا۔ شاید آج اسی لئے مہنت گیان داس‘رام ولاس ویدانتی‘مہنت بھاسکر داس اورمہنت رام داس اس مقدمہ کے مدعی محمد ہاشم انصاری کا پھولوں کے ہار سے استقبال کررہے ہیں‘ کیونکہ متنازعہ اراضی پر ان کے دعوے کو تقویت پہنچانے میںوقف بورڈ کے مقدمہ کا بھی اہم رول ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر مسلمان اولین دو مقدموں میں ہی قاعدے سے اپنادفاع کرتے اور 1961میں یہ مقدمہ نہ کرتے‘ تو کہیں بہتر تھا۔ ہم یہاں کسی کی نیت پر شک نہیں کر رہے ہیں ‘ جن وکیلوں نے یہ مقدمہ تیار کیا تھا‘ معلوم نہیں وہ کون تھے ‘ ہم ان کی پیشہ وارانہ ایمانداری پر بھی انگشت نمائی کرنا نہیں چاہتے‘ لیکن ملت کے ناخداﺅں کو یہ احساس دلانا ضرور چاہتے ہیں کہ ہم اپنی کسی بھی قانونی لڑائی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے‘ مشکل سے مشکل مسئلے کو بھی ہلکے میں لیتے ہیں۔ہمارے ارباب اقتدار‘سرکاری حکام‘ پولس اور انتظامیہ ایماندار نہیں ہیں اور ہمارے تئیں تو اور بھی نہیں‘ لیکن ہم ان کی جانب سے بیدار ومحتاط نہیں رہتے۔ ہم اپنی جنگ ملک کے آئین وقانون ‘نظام حکومت اور عدلیہ کی زمینی سچائیوں کو سامنے رکھ کر نہیں لڑتے‘ اپنی سوچ کے حساب سے لڑتے ہیں اور ان کو وہ سب کچھ کرنے کا موقع ہم خود ہی مہیا کراتے ہیں‘ جن پر بعد میں سینہ کوبی کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات تو ہمیں پھنساکر عدالت میں لایاجاتا ہے اور ہم سیاست دانوں یا کسی اور کے تیار کردہ خوبصورت جال میں بڑی آسانی سے پھنس جاتے ہیں۔ جس کی مثال مسلم یونیورسٹی کا تازہ معاملہ بھی ہے اور بابری مسجد کیس میں وقف بورڈ کا کچا پکا مقدمہ بھی ۔

اے ایم یو کی مثال

مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار کا جو تنازعہ اس وقت سپریم کورٹ میں زیر غورہے‘ کس طرح شروع ہوا‘ آپ کو یقینا یاد ہوگا ۔ اس وقت کے مرکزی وزیر مملکت برائے فروغ انسانی وسائل محمد علی اشرف فاطمی نے اکتوبر 2004میں اقلیتی تعلیمی کانفرنس بلائی تھی۔ محکمہ کے بڑے وزیر ارجن سنگھ اس میں کھل کر رخنہ تو ڈال نہیں سکتے تھے‘ کیونکہ فاطمی یوپی اے کے ایک اہم حلیف آر جے ڈی کے کوٹہ کے وزیر تھے۔ اس لئے شاطرانہ چالوں کا سہارا لیا۔ کانفرنس کا اصل ایجنڈا اقلیتی اسکولوں اور مدرسوں کی جدید کاری اور مرکزی مدرسہ بورڈ کا قیام تھا‘ لیکن بڑے وزیر نے بڑی خوبصورتی سے اس کانفرنس کو ہائی جیک کرلیا۔ مرکزی مدرسہ بورڈ‘ جس سے مسلمانوں کا کچھ بھلا ہوسکتا تھا اور بعض ریاستوں کی طرح مرکز کو بھی تعلیم کے بجٹ میں اس کے لئے چند کروڑ روپے مختص کرنے پڑتے‘ وہ تو ایک کمیشن کے حوالے کردیا۔ جیسا کہ ایسے ہر معاملے میں کیاجاتا ہے۔ لیکن اسی کانفرنس میں پیش کی گئی مسلم یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر کی یہ تجویز فی الفور منظور کرلی کہ پیشہ وارانہ تعلیم کے اعلیٰ کورسزمیں مسلم امیدواروں کو 50 فیصد ریزرویشن دیاجائے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس آئی اے ایس وائس چانسلر نے کس کے اشارے پر یہ تجویز پیش کی تھی‘ لیکن دنیا جانتی ہے کہ اس کے نتیجے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار کا لعدم کردیا اور اب یہ مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ 1961 میں سنی سینٹرل وقف بورڈ سے بابری مسجد کے معاملے میں کرایاگیا مقدمہ بھی اسی قسم کے ناپاک کھیل کا حصہ رہاہو۔

ملی قیادت کی بے حسی

6دسمبر 1992کے اعصاب شکن سانحہ کے بعد ملک کے عام مسلمان تو بیدار ہوگئے‘ ان کاشعور کسی نہ کسی حد تک جاگ چکا ہے اور اس کا وہ ثبوت بھی دے رہے ہیں‘لیکن ملک کی ملی قیادت نے ذرا بھی سبق نہیں لیا۔ اس کی دلچسپیاں آج بھی شوروغل‘ نام ونمود‘ حاشیہ آرائی‘ خصیہ برداری اور ملی مسائل پر اپنی سیاست کی روٹیاں سینکنے میں ہے۔اگرہم نے کوئی سبق لیا ہوتا‘ تو کیا ہائی کورٹ میں آپ آثارقدیمہ اور تاریخ کے ایسے ماہرین کو بطور گواہ پیش کرتے‘ جنہوں نے کبھی اجودھیا دیکھا تک نہیں تھا اور جن کے متضاد بیانات عدالت کو ان پر ہنسنے کے لئے مجبور کردیتے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ ثبوت کی تلاش میں زمین کی کھدائی کس حدتک درست ہے۔ صدیوں پہلے کی کسی چیز کا زمین میں پایاجانا ملکیت اراضی کے دعوے کی چھان بین میں معاون ہے یا نہیں؟ اور وقت کے پہیہ کو پیچھے گھمانے یا تاریخ کو پلٹنے کا عمل کتنا خطرناک ہے؟ یہ روایت ایک بار قائم ہوگئی‘ تو کیا ہوگا؟ اور ملک کا آئین وقانون اس کی اجازت دیتا ہے یا نہیں؟ ان بنیادی سوالات سے قطع نظر ہائی کورٹ میں محکمہ آثار قدیمہ کی رپورٹ پر وقف بورڈ کی جانب سے بحیثیت آزاد ماہرین (Independent experts) جوتاریخ داں اور ماہرین آثارقدیمہ اپنے دعوے کی تائید میں پیش کئے گئے تھے‘ وہ کس درجے کے تھے‘ اس کا اندازہ ان کے بیانات اور دوران جرح ان کے اعترافات سے ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک نے عدالت کو بتایا کہ” متنازعہ مقام کے بارے میں اس کی جو بھی معلومات ہیں‘ وہ اخباروں کی رپورٹوں اور دوسروں کی کہی ہوئی باتوں سے حاصل کردہ ہیں“۔ اس کی ایکسپرٹی صرف اتنی تھی کہ اس نے اخبارات کی رپورٹوں کو پڑھ کر اور اپنے شعبہ میں عہد وسطیٰ کی تاریخ کے ماہرین سے تبادلہ خیالات کرکے بابری مسجد تنازعہ پر ایک پورٹ تیار کی تھی‘ جو غالباًشائع بھی ہوئی تھی۔اے آئی ایس(محکمہ آثار قدیمہ) کی رپورٹ کو چیلنج کرنے والے ان گواہوں میں سے ایک نے عدالت میں پیش ہونے سے پہلے گراﺅنڈ پنیٹریشن رڈ ار سروے کی اس رپورٹ کو بھی پڑھنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی‘ جس کی بنیاد پر عدالت نے کھدائی کاحکم دیا تھا۔ایک اور ایکسپرٹ نے اعتراف کیا کہ” اسے فیلڈ کا کوئی تجربہ نہیں ہے۔ جسٹس سدھیر اگر وال نے اپنے فیصلے میں لکھا ہے کہ”عدالتیں عام حالات میں کسی گواہ کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کرتیں اور وہ صرف یہ طے کرتی ہیں کہ وہ قابل اعتبار ہے یانہیں‘ لیکن اس خاص کیس کی حساسیت اور تنازعہ کی نوعیت اور اس کے باوجود ایسے مضحکہ خیز اور غیر ذمہ دارانہ قسم کے بیانات کے پیش نظر ہم اپنے آپ کو روک پانا مشکل پارہے ہیں....“ یہ ماہرین محترمہ سوویرا جیسوال‘جیامینن ‘شیرین ایف رتناگر تھیں۔ اسی طرح ایک اور ایکسپرٹ پروفیسر سورج بھان کی گواہی ایک دوسری ایکسپرٹ شیرین موسوی کے اس بیان سے بے وزن ہوگئی کہ” مسٹر بھان آثار قدیمہ کے ماہر ہیں‘ عہدوسطیٰ کی تاریخ کے ایکسپرٹ نہیں ہیں“۔ جسٹس اگروال نے ان ماہرین کے دستخط شدہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ کسی نتیجے پر پہنچنے میں مدد کرنے کے بجائے یہ بیانات مزید پیچیدگیاں‘تضادات اور تنازعات پیدا کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”کوئی عام آدمی بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اگرچہ یہ بیان میرا ہے‘ لیکن اس کی صداقت کے لئے میں ذمہ دار نہیں ہوں‘ کیونکہ یہ میرے اپنے مطالعہ یا تحقیق پر مبنی نہیں ہے‘ بلکہ جوکچھ میرے علم میں ہے‘ وہ دوسروں نے بتایا ہے“۔

جہاں تک اے این ایس کی کھدائی اور اس کی رپورٹوں کا تعلق ہے‘ تو یہ سلسلہ 1970 کی دہائی سے جاری ہے‘ جب آر کیا لوجیکل سروے آف انڈیا کے سابق ڈائریکٹر جنرل پروفیسر بی بی لال نے یہ رپورٹ پیش کی تھی کہ اس جگہ سے مندر ہونے کے آثار دستیاب ہوئے ہیں۔پروفیسر لال نے اپنی حتمی رپورٹ 1980میں پیش کی تھی‘ لیکن جب انڈین کونسل آف ہسٹوریکل ریسرچ کی چار ماہرین کی ٹیم نے کھدائی میں دستیاب ہونے والی اشیا کا جائزہ لیا‘ تو پروفیسر بی بی لال کے دعوے کو بالکل بے بنیاد پایا۔ جن چار ماہرین کی ٹیم نے یہ تحقیق کی تھی‘ وہ کوئی عام قسم کے لوگ نہیں تھے‘ ان میں آئی سی ایچ آر کے سابق چیئرمین پروفیسر آر ایس شرما‘ اے ایم یو کے شعبہ تاریخ کے پروفیسر اطہر علی‘ لکھنو ¿ یونیورسٹی کے پروفیسر سورج بھان اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈی این جھاجیسے مستند تاریخ داں وماہرین آثارقدیمہ شامل تھے۔ مو ¿خر الذکر نے تو اجودھیا تنازعہ پر باضابطہ تحقیقی کتاب لکھی ہے۔ اس ٹیم نے اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنے سے پہلے کئی بار اجودھیا جاکر اس مقام کی تحقیق کی تھی۔ ان ماہرین نے پروفیسر لال کی سائٹ نوٹ بک‘ رجسٹراور کھدائی میں ملنے والی اشیائ‘ خاکے‘ نقشے اور ان کے ذریعے لی گئی تصاویر کا باریک بینی سے مطالعہ کیا تھا اور پھر پختہ دلائل سے بی بی لال کے دعوے کی تردید کی تھی۔ انہوں نے باضابطہ پریس کانفرنس بلاکر 26 اکتوبر 1992 کو اپنی تحقیقات کے نتائج پیش کئے تھے۔( اور اس کے صرف ایک ماہ بعد منصوبہ بند طریقے سے بابری مسجد کو شہید کردیاگیا) سوال یہ ہے کہ ان مستند ماہرین کی موجودگی میں وقف بورڈ کا ان لوگوں کو عدالت کے سامنے بحیثیت ایکسپرٹ پیش کرنا‘ جن کی معلومات اخباروں کی رپورٹوں پر مبنی تھی اور جنہوں نے اجودھیا دیکھا تک نہیں تھا‘ بورڈ کے وکلاءکی کونسی سنجیدگی اور دانشمندی ہے۔ کہیں ہمارے وکیلوں نے بھی اخبارات کی رپورٹیں‘ صحافیوں کی گل افشانیاں اور سیاستدانوں کے بیانات پڑھ کر تو بحث کی تیاری نہیں کی تھی؟؟

زعفران کشمیر او ر کشمیریت کی علامت, سنگھ پریوار اس کا حقدار کیسے

Posted by Indian Muslim Observer | 08 November 2010 | Posted in

بشیر اسد

ان دنوں کشمیر میںزعفران کے پھول جوبن پر ہیں اور زعفران کے لہلہاتے کھلیان بڑا ہی دِلکش اور دلفریب منظر پیش کررہے ہیں ۔ اگر چہ زعفران کی کاشت ڈوڈہ ، کشتواڑ کے سرحدی علاقوں سے لےکر کپواڑہ کے دور دراز پہاڑی علاقوں تک کی جاتی ہے تاہم پانپور کی وسیع و عریض زعفرانی زمینیں سرینگر ،جموں قومی شاہراہ کے کناروںپر واقع ہونے کی وجہ سے نہایت ہی معروف ہیں اور واردِ کشمیر ہونے والے ہر اپنے اور پرائے کا دل موند لیتی ہیں ۔آج کشمیری زعفران پر قلم اُٹھانے کی وجہ کشمیری زعفران کی خوبصورتی بیان کرنے سے بالکل الگ ہے:

پورے ہندوستان میںگزشتہ دو تین دہائیوں سے ہندو کٹر پسند تنظیموں پر مشتمل سنگھ پریوار کے ساتھ زعفرانی رنگ کو جوڑا جا رہا ہے اور بی ،جے ، پی ، آر ، ایس ، ایس ، شیو سینا ، بجرنگ دل اور دیگر ہندو انتہا پسند تنظیموں کو مشترکہ طور Saffron-Brigadeکے نام دیا جاتا ہے اور ابھی حال ہی میں آر ،ایس ، ایس کا دہشت گردی کے کئی واقعات میںملوث ہونے کی حالیہ خبروں کے پس منظر میں ملک کے وزیر داخلہ پی ،چدامبرم نے اس دہشت گردی کو Saffron Terrior کے نام سے منسوب کیا ہے ۔ قطع نظر اس کے کہ سنگھ پریوار کو Saffron Birgadeکے نام سے منسوب کرنے کے کیا حقیقی اور تاریخی محرکات ہیں اور اس کے پیچھے اور کون کون سے عوامل کارفر ہیں کشمیری عوام کو زعفران رنگ ہندو اتنہا پسند وں سے منسوب کرنے پر اعتراض ہے ۔

اس اعتراض کے پیچھے کون سے تاریخی عوامل کارفرما ہیں انکا ذکر کرنا یہاں بہت ہی ضروری ہے ۔ دراصل ثقافتی ورثہ اور مذہبی اشعار ایسے دو اہم ترین عوامل ہیں جن کی وجہ سے کشمیر اور کشمیریوں کا دنیا میں منفرد مقام ہے ۔

کشمیر میں اسلام صوفیائی اصولوں کے تحت پھیلا ہے اور فطرتاً کشمیری حلیم اور برباد ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی روداری کا قدرت کا عظیم شاہکار ہے جس کی مثال دنیا میں بہت کم ملتی ہے ۔ یہ بنیادی طور کشت خون اور دھنگہ فساد سے بالکل پاک ہے اور گزشتہ دو دہائیوں میں جتنا خون کشمیر وادی میںبہا ہے اُسکی تمام تر ذمہ داری ہندوستان اور پاکستان پر عائد ہوتی ہے اور دنیا کا کوئی بھی ذی شعور شخص جو کشمیر کی سیاسی صورتحال سے باخبر ہو کشمیری کو موردِالزام نہیں ٹھہرا سکتا ہے ۔اگر چہ کشمیری کے جذبہ ایثار اور مہمان نوازی کی مثال کہیں نہیں ملتی تاہم کشمیر تہذیبی اور ثقافتی تبدیلیوں کو مسکن رہا ہے اور ان تبدیلیوں کا وراث بھی ۔ اس تناظر میں اگر بات کریں تو تاریخی شواہد کے مطابق زعفران 500 قبل مسیح میں فارسی حکمرانوں کے ذریعے آیا ہے اور 600 قبل مسیح میں زعفران کی کاشت کشمیر میں عام ہوئی ۔ جب کہ چینی تاریخ کے مطابق کشمیر میں زعفران کا پہلا بیچ ایک بودھ عالم مدھیا نٹکا نے 500 قبل مسیح کے آس پاس بویا اور مہاتما بدھ کے انتقال کے بعد زعفران کی زبردست کاشت کے پس منظر میں زعفران رنگ کو بودھوں نے دفتری رنگ قرار دیا ۔


بہر حال 600 قبل مسیح میںزعفران کی کاشت کشمیر میں باضابطہ طور پر شروع ہوئی اور کشمیرکے دنیا کے مختلف خطوں کے ساتھ سڑک روابط کو استعمال کرکے زعفران کو دنیا کے مختلف مارکیٹوں تک پہنچایا گیا ۔ لیکن کشمیر کے روایتی قصہ خوانوں کے مطابق مشہور صوفی بزرگوں خواجہ مسعود ولی اور حضرت شیخ شریف الدین نے1200ہجری میں زعفران کشمیر لایا اور اس کی کاشت شروع کی ۔ بہرحال معروف کشمیر ادیب محمد یوسف ٹینگ اس روایت سے اختلاف کرتے ہیں ۔ اُنکے مطابق زعفران کشمیر میں دو ہزار سال سے کاشت ہورہا ہے ۔

زعفران کا پھول گول اور بہت ہی چھوٹا ہوتا ہے ۔ جو ہر سال خود بخود اُگتا ہے اس پھول کی لمبائی 15 سے 25 سینٹی میٹر ہوتی ہے ۔ اور یہ پھول زمین کے نیچے گول Rhizome سے اُگتا ہے ۔ زعفران پھول انتہائی نازک ہوتا ہے اور اس کی خوشبو یذدانی ۔ زعفران کے لئے سرد خشک آب و ہوا ضروری ہے اور زعفران کی پیداوار گرمیوں میں بارش کی مقدار اور درجہ حرارت پر براہ راست منحصر ہے ۔بارش زیادہ ہو تو پیداوار بہت اچھی ہوتی ہے ۔ زعفران کا پھول عموماً 15 اکتوبر سے15 نومبر کے درمیان کھلتا ہے ۔

سنسکرت میں زعفران کیشارا ، کنما ، ارونا ، اسرا اور اسریکا کے ناموں سے مشہور ہے ۔ اردو ، بنگالی اور پنجابی میں اس کو زعفران ہی کہتے ہیں اور کشمیر ی میںزعفران کو کونگ کہتے ہیں ۔کشمیر دنیا میں زعفران اگانے والی تین اہم جگہوںمیںسے ایک ہے اور کشمیری زعفران دنیا میں سب سے بہتر زعفران مانا جاتا ہے ۔ پورے ہندوستان میں کشمیر کو چھوڑ کو زعفران کی کاشت اور کہیں نہیں ہوتی ہے ۔

بہر حال زعفران کے مختصر تاریخی پس منظر کو بیان کرنے سے مقصود صرف یہ ہے کہ زعفرانی رنگ کشمیر کی ثقافت ، تہذیب اور تمدن کا آیئنہ دار ہے اور اس رنگ کو ملک کے ہندو انتہا پسند تنظیموں کے لئے استعمال کرنا شاید کشمیریوں کے ساتھ ایک اور نا انصافی ہے ۔

ہمیںکوئی اعتراض نہیں ہوتا اگر زعفرانی رنگ کو سرکار کسی قومی رنگ کا مقام دیتی ہے یا پھر کسی تاریخی حیثیت کے مقام یا ورثہ کو اس نام سے منسوب کرتی ہے ۔ہمار ا اعتراض صرف اس بنیاد پر ہے کہ یہ رنگ کشمیر کی تہذیبی اور ثقافتی ورثہ کا عظیم شاہکار ہے اور اس نام کو فرقہ پرست اور انتہا پسند تنظیموں کے لئے استعمال نہیںکیا جاسکتا ہے ۔

ساڑے پانچ سو سال پرانی بابری مسجد کو اگر سنگھ پریوار ایک جھٹکے میں زمین بوس کرتے ہیں تو کیا ہمیں دوہزار سال پرانے زعفرانی رنگ ان سے منسوب کرنے پر اعتراض نہیں ہو سکتا ہے ۔ کشمیر کے ادیبوںاور قلمکاروں کو زعفرانی رنگ کی واپسی کے لئے قلم کی نوک کو حرکت دینا ہوگااور اس ثقافتی جارجیت کے خلاف تحریک چلانے کا باضابطہ اعلان کرنا چاہیے تاکہ سنگھ پریوار کو یہ احساس ہو کہ کشمیری نہ صرف سیاسی طور با حس ہیں بلکہ اپنے تہذیبی اور ثقافتی ورثہ کے حوالے سے بھی اتنہائی حساس ہیں۔

شوپیان سا نحہ کی گونج ایک بار پھر سنائی دی۔مذاکرات کار ، قلمکار، ہداےت کار ۔سارے شوپےان پہنچ گئے۔

Posted by Indian Muslim Observer | 30 October 2010 | Posted in


بشیر اسد

کشمیر میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ خون ناحق چالیس سال بعد بھی چیخ اُٹھتا ہے۔ اسی کہاوت کے مصداق مئی 2009ئ کا شوپیان سانح گزشتہ ہفتے اس وقت چرچے میں آیا جب 26اکتوبر کے دن معروف قلمکار ارون دتی رائے ‘ فلم ساز سنجے کاک اور پھر ریاست جموں و کشمیر کے لئے نامزد مذاکرات کار دلیپ پڈگونکر اور رادھا کمار مقتولین آسیہ جان اور نیلوفر کے گھر پہنچ گئے اور غم زدہ خاندان کے افراد جن میں آسیہ اور نیلوفر کے والد بزرگوار اور نیلوفر کے شوہر شامل ہیںسے ملے ۔

اگرچہ مذاکرات کاروں کے دورہ شوپیان کے حوالہ سے پہلے سے ہی سرگوشیاں ہورہی تھیں تاہم ارون دتی رائے اور سنجے کاک کا مقتولین کے گھر پہنچنا بالکل اچانک ہوا۔ 30مئی 2009ئ کو نند بھابھی 17سالہ آسیہ اور 22سالہ نیلوفر بعد دوپہر گھرسے رنبہ آرا کے کنارے واقع سیب کے باغ میں مویشیوں کے لئے گھاس لانے کے لئے نکلیں لیکن 31مئی دوپہر کو ان کے گھر ان کی لاشیں پہنچائیں گئیں۔ جن پر لگے زخم یہ چیخ چیخ کر بھول رہے تھے کہ دونوں درندگی کی شکار ہوئی ہیں اور عصمت لٹانے کے بعد ان کو قتل کیا گیا تھا۔ تین مہینے تک مسلسل ایجی ٹیشن چلائی گئی اور شوپیان کی لٹی عصمتوں کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے پوری وادی میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ اس افسوسناک واقع کی تحقیقات کے لئے یک نفری کمیشن بٹھایا گیا جس کی سربراہی جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج مظفر جان کر رہے تھے ۔ کمیشن نے رپورٹ تیار کی اور اس رپورٹ کے مطابق شوپیان میں تعینات پولیس افسران نے شواہد مٹانے کے جرم کے مرتکب ہوئے تھے ۔ اس پی‘ ڈی ایس پی اور سب انسپکٹر کو معطل کیا گیا ۔ اس کے بعد جموں وکشمیر پولیس نے سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی اور بعد میں کیس کو مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی کے حوالے کیا گیا ۔ سی بی آئی نے کیس کا رخ ڈرامائی انداز میں تبدیل کیا اور اس واقع کو محض غرق آب ہونے کا کیس بتا کر مقتولین آسیہ اور نیلوفر کے وارثوں اورشوپیان بار ایسوسی ایشن کے وکلاءاور کئی ایک ڈاکٹروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کیا اور ان پر خرمن امن کو درہم برہم کرنے اور غرق آب ہونے کے واقعہ کو سیکورٹی ایجنسیوں کی کارستانی قرار دینے کے الزام عاید کئے ۔

اس طرح انصاف کا گلہ گھونٹ دیا گیا اور متاثرہ کنبہ کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان پر شدید قسم کے الزامات عاید کئے حتیٰ کہ ایک موقعہ پر مقتولین کے کردار پر سوال اُٹھانے کی کوشش کی گئی ۔ بہر حال 26اکتوبر بروز منگل اس کیس نے اس وقت ایک نیا موڑ لیا جب معروف قلمکارارون دتی رائے ‘ فلم ساز سنجے کاک اور دو مذاکرات کار یکے بعد گیرے مقتولین کے گھر پہنچ گئے اور اس سانحہ کے حوالے سے متاثرہ کنبہ کی دلیل سنی ۔

ارون دتی ر ائے کے سامنے جب نیلوفر کے شوہر شکیل احمد آہنگر نے سارا ماجرا پیش کیا تو مصنفہ تقریبا ً 15منٹ تک سسکیوں میں ڈوب گئی اور آنکھوں سے اشک جاری ہوا ۔ لیکن جب ٹھیک ساڑھے بارہ بجے مذاکرات کاروں کی ٹیم شکیل کے گھر داخل ہوئی تو بہت ہی رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ۔ شکیل جو غالباً بہت کم پڑا لکھا ہے نے سانحہ کا نقشہ کھینچا تو مذاکرات کاروں کے سر براہ اور معروف صحافی دلیپ پڈگونکر جذبات پر قابو پانہ سکا اور اُس کی آنکھوں سے آنسوں کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ پروفیسر رادھا کمار جو سہ نفری مذاکرات کاروں کے ٹیم میں واحد خاتون ممبر ہے بظاہر بہت سلجھی ہوئی شخصیت کی مالک ہے تاہم شکیل کی زبانی سانحہ سے متعلق روداد سن کر وہ صرف اتنا کہہ سکی کہ درندگی کی انتہا ہے ۔

بہر حال شکیل اور اُس کے والد نسبتی نے مذاکرات کاروں کو واضح الفاظ میں بتایا کہ وہ انصاف ملنے کی اُمید کو ترک کر چکے ہیں اور اب صرف ایک بات کو لے کر جی رہے ہیں کہ کشمیر میں آسیہ اور نیلوفر جیسی اور بھی بہت سی خواتین ہیں جو درندگی کی شکار ہوئیں اور اس سے نجات پانے کا واحد راستہ کشمیر سے مکمل فوجی انخلاءہے ۔ شکیل نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو حدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ عمر عبداللہ نے اس پورے سانحہ کے دوران سینکڑوں بار اپنے بیانات بدلے اور کبھی بھی کسی ایک بیان پر ٹک نہ سکا ۔ شکیل نے کہا کہ وہ انصاف کی دہائی کسی سے لگا ئے اور کہاں لگائیں جبکہ ان کے خانوادوں کو آج بھی ایک یا دوسرے طریقہ سے ہراساں کیا جا رہا ہے ۔

مذاکرات کاروں کے ٹیم نے اگرچہ بہت ہی محتاط الفاظ میں غم زدہ خاندان کو امید جگانے کی اپیل کی تاہم واپس نکلنے پر مذاکرات کاروں کے ذہن شوپیان سانحہ کے حوالہ سے بالکل صاف ہوئے اور اس واقعہ سے متعلق جو دور سے دلیلیں انہوں نے سنی تھی اُن کی سند پر شکوک وشبہات کا اظہار کھل کر کیا ۔ لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ شوپیان سانحہ کے شکار خاندان نے بہت ہی خوبصورت انداز میں ریاست بالخصوص وادی میں ہو رہی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا خاکہ اس طرح کھینچا کہ ریاست جموں و کشمیر کے سیاسی مسئلے کے ساتھ جڑی عدم تحفظ کی کڑی واضح ہو کر سامنے آئی ۔ آسیہ اور نیلوفر کے والد نے مسئلہ کشمیر کو وادی کشمیر کے ہر گھر کے غم واندہ کی کہانی سے تعبیر کیا اور کہا کہ اُن کے نزدیک مسئلہ کشمیر آسیہ اور نیلوفر جیسی ہزاروں بیٹیوں کی لٹی عصمتوں کا مسئلہ ہے اور ان لٹی عصمتوں کو دل و دماغ میں بٹھاتے والدین کا قصہ ہے اور ان واقعات کے شواہد بچوں کی نیندوں میں خوفناک مناظر کا مسئلہ ہے ۔ اور کشمیر ی عوام کو ان خوفناک مناظر کے ذمہ دار فوجوں سے نجات چاہیے ۔ نیلوفر اور آسیہ کے والد نے ریاست کی حریت پسند قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف قربانیاں مانگنے والے ہیں اور ان کے ساتھ امید یں وابستہ رکھنے سے محرورمی ہاتھ آتی ہے ۔ اُن کے مطابق وادی کے عوام نہ صرف ہندوستانی فوجوں کے ظلم و جبر کے شکار ہیں جس سے نجات ملنا لازمی ہے بلکہ کشمیری عوام سیاسی قیادت کی ناعاقبت اندیشی کے شکار بھی ہیں ۔

داستان غم واندہ کا ادراک کرنے کے بعد جب راقم نے خاتون مذاکرات کار رادھا کمار سے سوال کیا کہ دورہ شوپیان کے بعد آیا اُن کے ذہن میں کوئی ایسی بات آتی ہے جس کو لے کر وہ مرکزی قیادت سے فوری ردعمل جاننے کی کوشش کرے گی تو رادھا نے بڑے ہی نپے تلے اور محتاط الفاظ میں فوجی انخلاءکی طرف اشارہ کیا ۔

اس ساری کہانی اور اس کے آخر میں پروفیسر رادھا کمار کے یک جملہ جواب کا احاطہ کرنے سے میرا مقصد نہ زخموں کو کریدنا ہے اور نہ ہی ظلم و جبر کے شکار سانحہ شوپیان کے وارثوں میں امید جگانا ۔ بلکہ مذاکرات کاروں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرنے والوں سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا شکیل آہنگر ہندوستان کے تین یا چار اور لوگوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہیں ہوا کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے فوجی انخلاءضرور ی ہے ۔ اگر ہم مذاکرات کاروں کو صرف اور صرف ہندوستانی شہریوں کا درجہ دے کر ہی ملیں تو تب بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اور تین ہندوستانیوں تک اپنی بات پہنچائی اور ان کے دلوں اور ذہنوں کو جھنجھوڑنے کی کامیاب کوشش کی ۔ اپنی اس دلیل کے حق میں ایک اور بات کا خلاصہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔

دلیپ پڈگونکر نے سانحہ شوپیان سے متاثرہ خاندان کو ایک بات ضرور کہی کہ انہیں امید کا دامن چھوڑ نا نہیں چاہیے بلکہ ہم اس سانحہ کے حوالہ سے ہندوستان کی سیاسی قیادت کو زور دے کر کہیں گے کہ مجرموں کو سزا ملنی چاہیے اور اس سانحہ کے شکار خاندان کو انصاف ضرور ملنا چاہیے ۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو سانحہ کے شکار خاندان کا مذاکرات کاروں سے ملنا سود مند رہا اور کم از کم اس سانحہ کی گونج ایک بار پھر سنائی دی ۔ ایک اور بات یہ کہ علیحدگی پسند قیادت کی بائیکاٹ کال شاید وقت کا تقاضا ہو سکتا ہے یہ قابل بحث امر ہے تاہم مذاکرات کے عمل سے دور رہنا جمہوری حق ہے لیکن اس عمل سے دور رکھنا بشری حقوق کو صلب کرنے کے مترادف ہے اور یہ بات کہنے میں مجھے ذرا بھر بھی تردد نہیں کہ ہندوستان نے ہمارے سیاسی جموری اور انسانی حقوق پر شب خون مارا اور ہماری سیاسی قیادت انہی حقوق کی بحالی کا علم بلند کر کے برابر ان حقوق سے عوام کو دست بردار کرنے کے عمل میں مصروف ہے۔ استصواب رائے ‘ آزا دی رائے ‘ تقریر و تحریر کی آزادی خوف و ہراس سے آزادی‘ گھومنے پھرنے کی آزادی ۔ خیالات کے اظہار کی آزادی‘ میل جھول کی آزادی‘ فیصلے لینے کی آزادی‘ اگر ہم اپنی آزادیوں کی حصول کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں تو پھر ہم کسی کو مذاکرات کاروں سے ملنے اور ان تک اپنی بات پہنچانے کی آزادی سے محروم نہیں رکھ سکتے ہیں ۔

ہم آتے رہے ہیں آتے رہیں گے

Posted by Indian Muslim Observer | 24 October 2010 | Posted in

محمد فردوس

گذشتہ 9 اکتوبر 2010 کے روزنامہ راشٹریہ سہارا اردو دہلی کے سر ورق پر ملت کے ایک ”صفحہ اول کے دانش ور (جن کا قارئین کو انتظار بھی تھا)“ کا حسب مرتبہ صفحہ اول پر نمودار ہونا باعث تعجب کیونکر ہو۔ اس کے ایک دن قبل بھی ایک اسلامی اسکالر اپنی نصیحتوں و مشوروں سے ہمارا ذائقہ بگاڑ چکے ہیں ابھی اور بھی ملت کے ”دانا اور حکیم “ اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر اپنا ’تعاون‘ پیش کرنے کے لیے یقیناً تیار ہونگے جو رہ رہ کر منظرِ عام پر آتے رہینگے اور کچھ بے ضمیروں کی تلاش بھی جاری ہے۔ چلئے ان باتوں کو چھوڑیے اب ملت اپنے ”ہر دل عزیز قائد“ کو خوب پہچانتی ہے۔

جہاں تک آستھا کی بات ہے تو ایسا نہیں کے مسلمان بے آستھا ہیں۔ ہماری آستھا ہی کا تقاضہ ہے کے ہم قانون کی بالادستی قبول کرتے ہیں ورنہ سر پھرے لوگ کہاں اور کس زمانے میں نہیں ہوتے اور آئندہ نہ ہونگے اس کی کیا گیارنٹی ہے لیکن ہم ان امن پسند لوگوں کی آرا کی قدر کرتے ہیں اور انشا اللہ کرتے رہیں گے۔

اکثیریت کی دھونس اور اقتدار کا نشہ بھی مظلوم کو عدالت کی چوکھٹ پر جانے سے روک رہا ہے۔ طرح طرح کے لالچ، خوف و ہراس کے ہتھ کنڈے اپنائے جا رہے ہیں۔ پھر بھی ہم دنیا میں سب سے بڑے لوک تنتر کا راگ الاپنا نہیں بھولتے۔ جن کے حق میں عدالت نے فیصلہ دیا وہی عدالت عظمیٰ جانے سے گھبراتے ہیں اور نیایالہ کا سمّان کا بھی اعتراف کرنے کی بات کرتے ہیں، ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ عدالت سے ہمارے حق میں فیصلہ نہیں ہوتا ہے تو ہم لوک سبھا میں جائیں گے اور وہا ںسے بھی بات نہیں بنتی توآندولن چلائیں گے، سمجھ میں نہیں آتا کہ نیایالہ کا سمّان اور جن آندولن میں کیا مطابقت ہے، کیا یہ عدالت کے فیصلے کا کھلا انکارنہیں ہے نیایالہ کا سمّان اسی طرح کیا جاتا ہے یہ بات انصاف پسند عوام بھی اچھی طرح جانتی ہے لیکن ابھی اکثیریت میں یہ جرا ¿ت نہیں کے بر ملا اس کا اظہار کر سکے اور یہی وجہ ہے کے یہ فتنہ گر لوگ اسطرح کا ماحول بنا رہے ہیں۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے اور ہمارے دانشوروں کا ظلم و نا انصافی کو رحمت سمجھ کر قبول کرنے کا ملت کو مشورہ بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کہا جائے الفاظ نہیں ملتے۔

ایسا ہی موقع رہا ہوگا جب غزوہ ¿ احد کے لشکر سے 300 لوگوں کو واپس کر لیا گیا تھا وہ بھی بغیر دلیل نہیں بلکہ ملت کے ’مفاد ‘کے پیشِ نظر ہی تھا۔ یقیناً ایک قلیل تعداد کی بڑی قوت سے ٹکرانے کی بات تھی۔ جان گنوائے جانے کا خدشہ تھا۔ ایمان کو تھوڑی دیر کے لیے اگر بالائے طاق رکھ دیں تو عقل بھی اسے تسلیم کرتی ہے لیکن اللہ اور اس کے رسول کے ہر حکم کو سر آنکھوں پر اٹھانے والوں کو نتیجوں کی فکر کہاں ہوتی ہے۔ مذکورہ 300 لوگ تاریخ میں اپنی جگہ کہاں پاتے ہیں اور ان کا وہ قائد کس ”بلند ترین مرتبہ“ پر فائز ہے یقیناًہر ذی علم مسلمان اس سے اچھی طرح واقف ہے۔

Email: mfirdaus@gmx.com

آستھا کی چھری سے انصاف کا قتل

Posted by Indian Muslim Observer | | Posted in


محمد فردوس

گذشتہ 30 ستمبر کو الہ آباد ہائی کورٹ نے جو فیصلہ دیا اسے عدالت کا فیصلہ کہنا عدالت کی توحین ہی ہے۔ ایسا فیصلہ تو کم فہم لوگوں کی پنچائت بھی نہیں کرتی وہاں بھی ثبوت اور گواہوں کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ گرچہ ان کے پاس اپنے فیصلے کو نافذ کرانے کے لیے کوئی قانونی اختیار نہیں ہوتا لیکن عدالتوں کے ساتھ ایسا نہیں اسے اپنے فیصلے کو نافذ کرانے کا اختیار ہوتا ہے ، لیکن اس کے لیے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔

اس فیصلے میں وجود کو عدم اور عدم کو وجود تسلیم کیا گیا ہے اور ثبوت کی جگہ آستھا نے لے لی اقتدار کا نشہ اور اکثیریت کی ناراضگی کا خوف کس قدر اس فیصلے پر اثر انداز ہوا ہے یہ کسی سے دھکا چھپا نہیں۔ ججوں نے بھی اپنی لیاقت اور مصلحت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ عدالتی فیصلے انصاف اور قانون کی بالادستی کا ضامن ہوا کرتے ہیں نا کہ عوام میں بیچینی کا۔
 
61 سال کی مدت کا احاطہ کیے ہوئے اس مقدمے کا فیصلہ ایسا سطحی ہوگا اس کا وہم و گمان بھی نہیں کیا جا سکتا۔ کیا یہی وہ عدالتی نظام ہے جہاں فریقین سے قرآن و گیتا پر ہاتھ رکھوا کر عہد لیا جاتا ہے کہ جو کچھ کہیں گے سچ کہیں گے سچ کے سوا کچھ نہیں کہیں گے، لیکن منصف خود کو اس سے آزاد سمجھتے ہیں۔

حکمراں طبقہ جس طرح ملک میں امن و سکون قائم کرنے کا زمہ دار ہوتا ہے عدلیہ کا رول بھی کم زمہ دارانہ نہیں۔ اب یہ مقد مہ عدالتِ عظمیٰ میں پیش کیا جانے والا ہے امید ہے وہا اکثیریت کی خوشنودی یا ان کا خوف اور کسی سیاسی فائدے کی لالچ انصاف کی راہ میں حائل نہیں ہوگا اور دنیا میں ہماری عدالتی نظام پرجو انگلیاں اٹھ رہی ہیں یقینا اس کا ازالہ بھی ہوگا۔

Email: mfirdaus@gmx.com

کانگرےس کی نئی ذمہ داری

Posted by Indian Muslim Observer | 23 October 2010 | Posted in

محمد فردوس

آپ کے موقر اخبار کے ذرےعہ وزےر اعظم ہند داکٹر منموہن سنگھ صاحب کی خدمت مےں ےہ بات پہچانا چاہتا ہوں کہ الےکشن سے کچھ پہلے کی بات ہے کہ انھوں نے فرماےا تھا کے ملک کے وسائل پر پہلا حق مسلمانوں کا ہے کےا ےہ بات بغےر سوچے سمجھے کہی گئی تھی (اےسا ےقےنا نہےں ہو سکتا کےونکہ وہ جس عہدے پر فائز ہےں وہاں کوئی بےان دےنے سے پہلے کئی بار اس کی اسکرےنگ ہوتی ہے) ےا الےکشن کی آندھی مےں مسلمانوں کے سہارے کی ضرورت تھی‘ کے پےشِ نظر کہی گئی تھی۔

مسلمانوں نے کانگرےس کو 206 تک پہنچانے مےں اپنا کم ےوگ دان نہےں دےا ہے۔ اس سے وہ ےا انکے کے ’کنبہ‘ کے لوگ بخوبی واقف ہےں، بلکہ اب تو بی جے پی کے سرپستوں کو بھی اس کا احساس ہونے لگا ہے کہ بغےر مسلمانوں کے سہارے انکا اقتدار کی کرسی تک پہنچنا محال ہی نہےں نہ ممکن ہے۔ ہمےں (قومِ مسلم کو) امےد ہے کہ مذکورہ بےان کی روشنی مےں موصوف کوئی ٹھوس قدم اٹھائےں گے۔ اس کے بغےر اپنا امےج انصاف پسند عوام مےں بہتر نہےں بنا سکتے اگر اےسا نہ ہوا تو آنے والے اسمبلی انتخابات (جہاں جہاں ہونے والے ہےں) مےں مخالفےن سے ’پنجہ‘ آزمائی مےں ماےوس کن نتےجہ آنے پر تعجب کی بات نہےں ہوگی۔ لالی پوپ کا بہلاوا ”وہ بھی اےلےکشن کے موقع پر“ اب مسلمانوں کو قطعی قبول نہےں۔ ٹھوس اقدامات سے ہی سےٹوں کے گراف کو لڑھکنے سے بچا سکتی ہے۔ سچر کمےٹی کی رپورٹ کو جس طرح بے اثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے مسلمانوں کو اس کا بھی بخوبی احساس ہے۔ ےہ کمےٹی بھی کانگرےس ہی نے اپنی سےاسی ضرورت کے پےشِ نظر بنائی تھی اس لےے اس کا لحاظ رکھنا بھی کانگرےس کی ہی ذمہ داری ہے۔

Donate to Sustain IMO

IMO Search

IMO Visitors

    Archive