Headlines

شہریت قانون پر فی الحال روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار چیف جسٹس نے معاملے کو پانچ رکنی آئینی بینچ کے حوالہ کرنے کا دیا اشارہ، مرکز کو چارہفتہ میں جواب داخل کرنے کی ہدایت

Posted by Indian Muslim Observer | 24 January 2020 | Posted in

شہریت قانون پر فی الحال روک لگانے سے سپریم کورٹ کا انکار
چیف جسٹس نے معاملے کو پانچ رکنی آئینی بینچ کے حوالہ کرنے کا دیا اشارہ، مرکز کو چارہفتہ میں جواب داخل کرنے کی ہدایت

عدالت کے فیصلہ سے انصاف کی امید لگائے کروڑوں لوگوں کو سخت مایوسی ہوئی ہے: مولانا ارشدمدنی
نئی دہلی22 /جنوری 2020ء۔شہریت ترمیمی قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں داخل 144عرضیوں پر آج چیف جسٹس اے ایس بوبڑے کی سربراہی والی تین رکنی بینچ نے سماعت کی عدالت نے قانون پر فی الحال روک لگانے سے یہ کہہ کر انکارکردیاکہ اس پر پانچ ججوں کی آئینی بینچ ہی کوئی راحت دے سکتی ہے، اس معاملہ پر جواب دینے کیلئے مرکزکو چارہفتہ کا مزید وقت دیا گیا ہے علاوہ ازیں شہریت قانون کے خلاف ہائی کورٹوں میں داخل عرضیوں کی سماعت پر عدالت نے روک لگادی ہے جبکہ آسام اور تری پورہ کے معاملوں کو اس سے الگ رکھا گیا ہے، واضح ہو کہ سی اے اے، این آرسی اور این پی آرکے خلاف عرضی داخل کرنے والوں میں جمعیۃعلماء ہند نے پہل کی تھی اور آج سماعت کے دوران اس کی طرف سے پیروی کے لئے سینئر ترین وکیل پیش ہوئے، آج سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی عدالت نمبر ایک کھچاکھچ بھرچکی تھی اس کی وجہ سے عدالت کے تینوں دروازے کھول دینے پڑے سماعت جیسے ہی شروع ہوئی مرکزکی طرف سے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے کہا کہ کل 144عرضیاں ہیں اس لئے ہم ابھی ابتدائی حلف نامہ ہی داخل کررہے ہیں، انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزکو اب تک 60عرضیاں ہی موصول ہوئی ہیں اس پر سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے کہا کے پہلے یہ طے ہوکہ معاملے کو آئینی بینچ کے حوالہ کیا جائے گا یا نہیں، سینئرایڈوکیٹ منوسنگھوی نے عدالت کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو شہریت دینے کا عمل بھی شروع ہوگیا ہے، اترپردیش میں 30ہزارلوگوں کا انتخاب بھی ہوچکاہے اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم حکومت کو پروزنل شہریت دینے کے لئے کہہ سکتے ہیں، ہم یک طرفہ طورپر روک نہیں لگاسکتے عرضی گزاروں کے وکلاء کا اس بات پر اصرارتھا کہ معاملے کو آئینی بینچ کے حوالہ کردینا چاہئے اور شہریت دینے کے عمل کو روک دیا جانا چاہئے اٹارنی جنرل نے اس کی مخالفت کی اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ معاملہ آئینی بینچ کو سونپاجاسکتاہے اور ہم پابندی لگانے کے موضوع پر بعدمیں سماعت کریں گے دوسری طرف سالیسٹرجنرل تشارمہتانے کہا کہ عدالت کو اس معاملہ میں مزید عرضیاں داخل کرنے پر روک لگادینی چاہئے مگر عدالت نے اس مطالبہ پر کوئی توجہ نہیں دی اسی دوران ایک وکیل نے این پی آرکا ایشواٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر این پی آرمیں کسی کو مشکوک قراردیا گیا تو اس کا نام ووٹرلسٹ سے کٹ جائے گااس پر مسٹرکپل سبل نے بھی کہا کہ یہ ایک انتہائی تشویشناک بات ہے بالآخر عدالت نے مرکزکو نوٹس جاری کرکے جواب داخل کرنے کو کہا اور اس کے لئے چارہفتہ کی مہلت طلب کی جس کی عرضی گزاروں نے مخالفت کی مگر عدالت نے اس درخواست کو قبول کرلیا، عدالت نے یہ بھی کہا کہ عبوری راحت کے لئے تین ججوں کی بینچ فیصلہ نہیں دے سکتی جبکہ چیف جسٹس ایس اے بوبڑے کاکہنا تھا کہ صرف پانچ ججوں کی آئینی بینچ ہی اس بابت کوئی فیصلہ کرسکتی ہے، شہریت قانون کے خلاف داخل عرضیوں پر سماعت کرتے ہوئے ملک کی سب سے بڑی عدالت نے قانون کو فی الحال بحال رکھنے اور مرکزکو جواب داخل کرنے کے لئے جس طرح چارہفتہ کی مزید مہلت دی ہے اس پر جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا سیدارشدمدنی نے سخت تشویش کا اظہارکیا ہے اور کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہمیں امید تھی کہ کوئی مثبت پیش رفت ہوگی انہوں نے کہا کہ اگر عدالت قانون کے نفاذ پر روک لگادیتی تو ملک بھرمیں اس قانون کے منظوری کے بعد خوف ودہشت کا جو ماحول قائم ہوا ہے اس میں بڑی حدتک کمی آجاتی اور جگہ جگہ ہورہے مظاہرے بھی بڑی حدتک تھم جاتے مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہوا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ ملک بھرمیں شدید احتجاج اور مظاہرے کے بعد بھی حکومت کہہ رہی ہے کہ اس قانون میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی اس صورت میں ملک کے تمام انصاف پسند لوگوں کی امید یں اور آرزویں ملک کی سب سے بڑی عدالت سے ہی وابستہ ہیں انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سیاہ قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں ریکارڈ 144عرضیاں داخل ہیں اوران سب میں اس قانون کو آئین مخالف قراردیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ چونکہ اس قانون سے آئین کے تمہید کی صریحا خلاف ورزی ہوتی ہے اس لئے اس پر پابندی لگنی چاہئے انہوں نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ سرآنکھوں پر لیکن اس سے ملک کے ان کروڑوں ہندو،مسلم، سکھ اور عیسائی کو سخت مایوسی ہوئی ہے جو پچھلے ایک ماہ سے سخت سردی، ٹھٹھرن اور بارش میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ کر اس کالے قانون کے خلاف پرامن مگر مثالی احتجاج کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ ان سب کے باوجود حکومت آمرانہ روش اختیارکرکے اس آئین مخالف قانون کو سب پر تھوپنا چاہتی ہے یہی وجہ ہے کہ 18/دسمبرکو اسے جواب داخل کرنے کے لئے جو ایک ماہ کی مہلت عدالت نے دی تھی اسے اس نے ضائع کردیا جبکہ اسے آج مکمل حلف نامہ داخل کرنا چاہئے تھا اس سے حکومت کی منشاء کا اندازہ لگایا جاسکتاہے، انہوں نے ایک بارپھر وضاحت کی کہ جمعیۃعلماء ہند کا شروع سے یہ مانناہے کہ جن مسائل کا حل سیاسی طورپر نہ نکلے اس کے خلاف قانونی جدوجہد کا راستہ اپنانا چاہئے، کئی اہم معاملوں میں اس نے ایسا کیا ہے اور عدلیہ سے انصاف بھی ملا ہے چنانچہ اس معاملہ میں بھی جمعیۃعلماء ہند نے وکیل آن ریکارڈ ارشادحنیف اور سینئر ایڈوکیٹ ڈاکٹر راجیودھون کے مشورہ سے ایک رٹ پیٹشن شروع میں ہی داخل کی تھی، مولانامدنی نے کہا کہ جو لوگ اسے ہندومسلم کا مسئلہ سمجھتے ہیں وہ غلطی پر ہیں سچائی یہ ہے کہ یہ ملک کے آئین ودستورسے جڑاہواایک انتہائی اہم معاملہ ہے البتہ بعض لوگوں کی جانب سے اسے مسلسل ہندومسلم بنانے کی دانستہ کوششیں ہورہی ہیں لیکن سچائی یہ ہے کہ اس کے خلاف ملک بھرمیں لوگ مذہب ذات پات اور برادری سے اوپر اٹھ کر احتجاج کررہے ہیں گویا دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتاہے کہ اس سیاہ قانون نے سب کو ایک دوسرے سے جوڑدیا ہے اور جولوگ باہمی اتحاداور یکجہتی کو نقصان پہنچانے کا خواب دیکھ رہے تھے انہیں سخت مایوسی ہاتھ لگی ہے، انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں جہاں جہاں شاہین باغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کی طرزپر مظاہرے ہورہے ہیں ان میں ایک بڑی تعدادہمارے غیرمسلم بھائیوں کی ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ پچھلے چھ سال کے دوران حکومت نے نفرت کی جودیوارمختلف جذباتی اور مذہبی ایشوزکو ہوادیکر ہندووں اور مسلمانوں کے درمیان منصوبہ بندطریقہ سے کھڑی کی تھی ان مظاہروں نے اس دیوارکو پوری طرح مسمارکردیا ہے اور یہی ہماری اصل طاقت ہے درحقیقت یہ ہندوستان کی طاقت ہے جس کے آگے اقتدارکے نشہ میں چور انگریزوں نے بھی گھٹنے ٹیک دیئے تھے انہوں نے آخر میں کہا کہ ان حتجاج اور مظاہروں کو عام احتجاج یا مظاہرہ نہ سمجھاجائے بلکہ یہ ایک نئے انقلاب کی آہٹ ہے اور مرکزی حکومت نوشتہ دیوار کو پڑھنے کی کوشش کرے ورنہ کل تک بہت دیر ہوسکتی ہے۔

فضل الرحمن قاسمی:
پریس سکریٹری، جمعیۃعلماء ہند: 9891961134 

ایس آئی ٹی کی رپورٹ سے ہندوستانی عدلیہ کا وقار مجروح ہوگا

Posted by Indian Muslim Observer | 23 February 2012 | Posted in , , , ,

عابد انور

ہندوستان میں فرقہ پرست مشنری، عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ اور میڈیا نیمسلمانوں کے لئے حصول انصاف اس قدر دشوار کیوں بنادیاہے۔کہیں سے ایک موہوم سی امید پیدا ہوتی ہے کہ شاید اب انصاف کاراستہ ہموار ہوجائے لیکن جیسے جیسے انصاف کا وقت قریب آتا ہے انصاف اتنا ہی دور چلاجاتا ہے ۔ 
 

اردو یونیورسٹی میں اردو کا قتل : اردو کے بہی خواہ کب بیدار ہوں گے؟

Posted by Indian Muslim Observer | | Posted in , , , , ,

عابد انور

اردو ہندوستان کی زبان کی ہے، بہت میٹھی ہے، تہذیب و اقدار کی زبان کی ہے، اس کے بغیر انسانیت مکمل نہیں ہوسکتی، اردو نے گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے وغیرہ وغیرہ یہ ایسے خوشنما اور



فاربس گنج پولیس فائرنگ معاملے میں سپریم کورٹ کے نوٹس کو حکومت بہار نے نظر انداز کیا۔دستی نوٹس کے لئے اپیل دائر

Posted by Indian Muslim Observer | 13 December 2011 | Posted in , ,


عابد انور

نئی دہلی/ فاربس گنج،۹ دسمبر حکومت بہار نے فاربس گنج کے بھجن پور میں گزشتہ 3 جون کو ہونے والی پولیس فائرنگ معاملہ میں سپریم کورٹ سے جاری نوٹس کامقررہ مدت چھ ہفتے گزر جانے کے بعد بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ اب دستی نوٹس بھیجوانے کے لئے سپریم کورٹ میں دوبارہ عرضی ۷ دسمبر کو دائر کی گئی ہے۔
عرضی گذار غیرسرکاری تنظیم اے پی سی آر دہلی کے سکریٹری اخلاق احمد نے بتایاکہ سپریم کورٹ نے مفاد عامہ کے تحت دائر کی گئی ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے بہار حکومت کو گزشتہ ۱۰ اکتوبر کو نوٹس جاری کیا تھا جس میں سی بی آئی سے انکوائری، ارریہ کی ایس پی گریماملک کی برخاستگی کی مانگ کے ساتھ حکومت بہار ،ایس پی ارریہ اور مرکزی حکومت کو فریق بنایا گیا تھا۔
عرضی گزار کے وکیل کولن گونزالویس کے مطابق اس عرضی میں مرکزی حکومت، حکومت بہار اور ارریہ کی ایس پی گریما ملک کو فریق بنایا گیاہے کیوں کہ ایس پی نے ہی مبینہ طو رپر فائرنگ کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اس عرضی میں مطالبہ کیاگیا ہے کہ پولیس فائرنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔اس کا کیس نمبر 195-2011ہے جب کہ جج جسٹس آر ایم لودھا اور جسٹس جگدیش سنگھ کھیہر ہیں۔
اے پی سی آر کے اخلاق احمد حکومت بہار کے رویہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کو نتیش حکومت نے سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب نہ دے کر جس قدر لاپروائی کا ثبوت پیش کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مظلوموں کو انصاف نہیں دینا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کا عدالتی انکوائری کا اعلان معاملے پست پشت ڈالنے کے سوا کبچھ بھی نہیں ہے ان کے رویے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر عدالتی انکوائری کمیشن کی رپورٹ آبھی گئی تو وہ اس پرکس حد تک عمل کرے گی۔
سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب نہ دینے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بہار کلانگریس کے ترجمان ڈاکٹر شکیل احمد خاں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس واقعہ کی سنگینی کے پیش حکومت بہار کو نوٹس جاری کیا تھا لیکن اس کا جواب نہ دینا حکومت بہار کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ نتیش حصول انصاف کی مدت کو طویل کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کو چھ ماہ ہوچکے ہیں لیکن اس سمت میں ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی ڈی ایم اور ایس ڈی او کو معطل یا ٹرانسفر کیا گیاہے اور مہلوکین کے ورثاء اور زخمیوں کو کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔
نہرو یووا کیندر کے سابق ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر شکیل احمد خاں نے کہا کہ وہاں جس طرح کا ماحول ہے اور خاطی افسران اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ابھی تک انہیں نہ تو معطل کیا گیا ہے اور نہ ہی تبادلہ ایسے حالات میں کسی عدالتی انکوائری کمیشن کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔انہوں نے کہا کہ جس طرح عدالتی کمیشن نے رویہ اختیار کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ کے دباؤ میں کام کرررہا ہے۔ پولیس فائرنگ کے متاثرین کو انصاف ملنے کی امید نہیں کے برابر ہے۔اس لئے سی بی آئی انکوائری ضروری ہوگئی ہے۔
سوشل ویلفےئر ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے سکریٹری اور سپریم کورٹ کے وکیل اشفاق عالم ، ارریہ ضلع کانگریس کے سکریٹری اویس یاسین اور ضلع کمیٹی کے ترجمان عابد حسین نے بھی بہار حکومت کے رویے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں مظلومین کے ساتھ انصاف ناممکن سا ہوگیا ہے اور نتیش کمار حکومت نریندر مودی کی راہ پر چل رہی ہے اس وقت ہم لوگ چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک مظلوموں کو انصاف نہیں مل جاتا۔
واضح رہے کہ فاربس گنج کے بھجن پور میں گزشتہ تین (۳) جون کو ہونے والی پولیس فائرنگ میں چار مسلمان ہلاک ہوگئے تھے۔ ایک پرائیویٹ کمپنی نے گاؤں والوں کا راستہ بندکردیا تھا۔ یہ اکیلا ایسا راستہ تھا جو گاؤں والوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے بازار، کربلا، عیدگاہ اور اسپتال سے جوڑتا ہے۔ یہ راستہ گاؤں والوں کی اپنی زمین پر واقع ہے جو 1956 سے زیر استعمال ہے۔ حکومت بہار نے جو زمین ایکوائر کی ہے اسے چھوڑ کر ایکوائر کی ہے اور اس کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔
میڈیا ایڈوائزر
فاربس گنج پولیس فائرنگ ایکشن کمیٹی
9810372335

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اقلیتی کردارکی بحالی کرشمہ سے کم نہیں

Posted by Indian Muslim Observer | 02 November 2011 | Posted in , , ,

عابد انور 

ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے یہاں تمام شہریوں کو اظہار کی آزادی،کام کی آزادی، ادارہ قائم کرنے کی آزادی، اسے اپنے حساب سے چلانے کی آزادی اور دیگر حقوق حاصل ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی حقوق دئے گئے ہیں یہ اور بات ہے کہ یہ صرف کاغذوں پر ہیں عملاًکسی حق کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔


عربوں کی بیداری کیلئے کتنے قذافی کا خاتمہ چاہئے؟

Posted by Indian Muslim Observer | | Posted in , , ,

عابد انور

افریقی شیر،قبائلی طرز زندگی گزارنے والا اور مغرب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والا لیبیا کے معزول صدر مرد آہن کرنل معمر قذافی کو مغربی ممالک کی فوج ناٹو اور ان کے چمچوں نے جس طرح بے رحمی سے قتل کیا ہے اس سے مسلمانوں کو ایک بار پھر ذلت کا سامنا کرنا پڑا


کیا کانگریس خود احتسابی کی قوت سے محروم ہے؟

Posted by Indian Muslim Observer | 26 October 2011 | Posted in , , ,


ابد انور 

کانگریس آج خود احتسابی کی قوت سے محروم ہے ۔ہمیشہ اس فکر میں رہتی ہے کہ اس کے کردہ گناہوں کا بوجھ کوئی اور اٹھائے اسی لئے وہ بحران کو دعوت دیتی رہتی ہے۔ کانگریس کو اپنے طویل ترین دور اقتدار میں شاید ہی اتنی مشکلات کا کبھی سامنا کرناپڑاہو، جس سے آج کل وہ دوچار ہے۔


یوم آزادی پر خاص رپورٹ: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

Posted by Indian Muslim Observer | 17 October 2011 | Posted in , , ,

اظہرزماں


 ؍۱۵ اگست ۱۹۴۷ء  کو آزادی کی شمع خون میں نہانے کے بعد روشن ہوئی۔ ملک تقسیم ہوا۔ اور لاکھوں بے گناہ انسان خاک اور خون میں نہا گئے۔






اڈوانی کا جن چیتنا یاترا: اس کا اخلاقی جواز کیا ہے؟

Posted by Indian Muslim Observer | | Posted in , ,

عابد انور

مجرموں کی آخری پناہ گاہ دیش بھگتی ہوتی ہے ۔انیسویں صدی کے ایک دانشور اورمفکرکا قول ہے کہ
     Patriotism is the last refuge of the scoundrels
دیش بھکتی کسی بھی بدمعاش کی آخری پناہ ہوتی ہے) کہتے ہیں



سماجی مساوات اور انصاف کے بغیر بدعنوانی کا خاتمہ محض ایک خواب

Posted by Indian Muslim Observer | | Posted in , ,

عابد انور

نئی دہلی، ۱۶ اکتوبر (عابد انور۔ آئی ایم او نیوز) معاشرے میں صدیوں سے پیوست عدم مساوات اور ذات پات کے نظام کے لئے جب بھی کوئی تحریک اٹھتی ہے 


انجمن ترقی پسند مصنفین

Posted by Indian Muslim Observer | 14 October 2011 | Posted in , , ,

 اظہر زماں


 .....نجمن ترقی پسند مصنفین بہار کا تین اجلاس پر مشتمل ایک روزہ صوبائی کانفرنس گذشتہ 

انجمن ترقی پسند مصنفین

Posted by Indian Muslim Observer | 13 October 2011 | Posted in , ,

 اظہر زماں
نجمن ترقی پسند مصنفین بہار کے اجلاس گیا میں شرکت کرنے پہنچے انجمن ترقی پسند مصنفین کے روح رواں اور الہ آباد یونیورسیٹی کے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر علی احمد فاطمی سے صحافی اظہر زماں نے ایک انٹر ویو لیا پیش ہے اس کے کچھ اقتباسات:۔





سنجےو بھٹ کی گرفتاری گجرات مےں جمہورےت پر فسطائےت کی فتح

Posted by Indian Muslim Observer | 12 October 2011 | Posted in , , ,

عابد انور

ہندوستان مےں آزادی کے بعد سے حکومت ، وزارت اور انتظامےہ مےںکچھ قدآور لےڈر اور افسران قابض ہوگئے جنہوں نے کبھی بھی ہندوستان کو حقےقی جمہوری ملک بننے نہےںدےا۔ہندوستانی جمہوریت مسلمانوں کو سزا دےنے، انتخابات کے بہانے زندگی کے تمام شعبوں سے دور رکھنے، حکومتی رعاےت کا کسی بھی صورت مےں مسلمانوں تک نہ پہنچنے دےنے سے عبارت ہوگئی۔آہستہ آہستہ جمہورےت فسطائےت کے فروغ، فرقہ وارانہ آہنگی تباہ کرنے کا سب سے بڑا ہتھےار بن گئی پچھلے 65 سالہ ہندوستان کی تارےخ دےکھےں توےہ بات آسانی سے سمجھ مےں آجائے گی۔گجرات مےں مودی حکومت جو کچھ بھی کر رہی ہے اس مےں کسی کو نہ تو تعجب ہے، نہ حےرانی ہے اور نہ ہی افسوس ہے ۔


بھرت پور فساد : مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی تصویر

Posted by Indian Muslim Observer | 03 October 2011 | Posted in

عابد انور

ہندوستان میں مظالم ڈھانے کا حوصلہ پولیس، شرپسند عناصر، ہندوانتہا شدت اور فرقہ پرستوں کو اس لئے ملتا ہے کہ یہاں اب تک ایسا شکنجہ ہی نہیں بنا جس میں ان لوگوں کو کسا جاسکے



تعلیم نسواں پر سیمنار

Posted by Indian Muslim Observer | | Posted in


آئی۔ ایم۔ او۔ نیوز سروس


یونیورسل نولج ٹرسٹ کی جانب سے جامعہ نگر میں منعقد تعلیم نسواں پر سیمنار
سے خطاب کرتے ہوئے نامور عالم اور ممبر پارلیامنٹ مولانا اسرار الحق القاسمی








تےشہ فکر: بھرت پور فساد گجرات قتل عام کی توسےع تو نہےں؟

Posted by Indian Muslim Observer | 24 September 2011 | Posted in , , ,

  عابد انور

کےا ہندوستان فسطائےت کی طرف تےزی سے قدم بڑھا رہا ہے؟ کےا ےہاں جمہورےت صرف دکھاوے کی ہے ےا صرف مسلمانوں پر حکومت کرنے اور ان پر تمام قوانےن کا نفاذ کرنے کے لئے ہے؟ ۔ کیا ہندوستان کی پولےس پوری طرح کمےونلائزڈ ہوگئی ہے؟،ےہاں کے سول اور اعلی پولےس افسران پوری طرح ہندوتو کے اےجنڈے پر کام کر رہے ہےںاور دنےا کودکھانے کے لئے تمام طرح کی جمہوری باتےں کہی جاتی ہےں؟، کےا ہندوستان مےں مسلمانوں کا وجود صرف گولی کھانے، ذلت برداشت کرنے، لےڈروں، وزےروں کے سامنے چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لئے گڑگڑانے تک محدود ہے؟، جب بھی ملک مےں کہےں بم دھماکہ ہوتا ہے مےڈےا اور پولےس افسران صرف مسلمانوں کو صرف کےوں نشانہ بناتے ہےں؟، آزادی کے ۶۶ برس کے بعد مےں ہندوستان مےں مسلمانوں کے تئےں نظرےے مےں کوئی تبدےلی آئی ہے؟ کےا ہندوستان مےں حکومتی اداروں ، پولےس ، سول افسران اور سےاست داں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی کھےتی کو ہری بھری کرنے مےں نماےاں رول ادا نہےں کر رہے ہےں؟کےا ہندوستان حقےقت مےں جمہوری ملک کا کردار ادا کر رہا ہے ےا صرف جمہورےت کا وجود اس حد تک گوارہ ہے کہ آپس مےں ہندو نہ لڑےں اور اس کے سہارے مسلمانوں کو کسی شعبہ مےں آگے نہ بڑھنے دےا جائے؟۔ اےسے سےکڑوں سوال ہےں جو ہر ہندوستانی مسلمانوں (سوائے ضمےر فروش مسلم لےڈروں، مسلمانوں،مولوےوں، خانقاہےوں) کے دل مےں کوند رہا ہے۔ آزادی کے بعد لامتناہی فسادات کے بہانے مسلمانوں کا قتل عام، ان کی زمےن و جائداد پر قبضہ، منصوبہ بند طرےقہ سے وقف املاک کی تباہی، فسادات کے دوران صرف مسلمانوں کی فےکٹریوں اور دکانوں کو نشانہ بنانا، مسلم خواتےن کی اس موقع پر منظم طور پر آبرورےزی ےہ اےسے معاملے ہےں جوےہاں کے مسلمان مسلسل اس سے دوچار ہورہے ہےں۔ ہر مسلمانوں کے دل مےں ےہ سوال گونج رہا ہے کےا تہ تمام چےزےں ہندوستانی جمہورےت کا حصہ ہےں اگر نہےں ہےں پھر اس کی روک تھام کےوں نہےں کی گئی اور کےوں نہےں آج تک ان مجرموں کو سزائےں دی گئےں۔ پولےس جب بھی مسلمانوں پر فائرنگ کرتی ہے اس کا نشانہ صرف ان کا سر، سےنے اور پےٹ ہی کےوں ہوتا ہے۔ مسلمانوں پر حالےہ فائرنگ کے واقعات مےں خواہ فاربس گنج کے بھجن پور مےں پولےس فائرنگ ہوےا اررےہ کے بٹراہا مےںاےس اےس بی کے جوانوں کے ذرےعہ مسلم بچےوں کی عصت دری کے واقعہ کے خلاف احتجاج کے نتےجے مےں اےس اےس بی کے فائرنگ مےںچار مسلمانوں کو ہلاک کرنے ےا بھرت پور کے گوپال گڑھ کا حالےہ سانحہ ہر بار پولےس نے مسلمانوں کے سےنے، سر، پےٹ پر گولےاں برسائی ہےں۔کےا ےہ ملک کی پولےس کی ٹرےننگ کا اےک حصہ ےہ ہے ؟ اس کی وضاحت حکومت کی طرف سے ضروری ہے۔

بھرت پور کے گوپال گڑھ قصبہ مےں جو کچھ ہوا ہے وہ ہندوستان مےں مسلمانوں کو ہر حال مےں تباہ کرنے کی پالےسی کا اےک حصہ ہے ۔ ےہ گجرات مےں ۲۰۰۲ مےں انجام دئے گئے قتل عام کی توسےع ہے ۔ حکومت خواہ کسی کی بھی ہو مسلمانوں کو ہر حال مےں پولےس کی گولی کا نشانہ بننا ہوگا۔ اس فساد مےں جس طرح پولےس نے گوجروں کا ساتھ دےا اور اندھا دھند فائرنگ کی اس سے اندازہ ہورہا ہے کہ جےسے سرحد پر گولےاں چل رہی ہوں اور ہر حال مےں دشمن کو نےست و نابود کرکے ہی دم لےنا ہے۔ جمعرات کو ہونے والے اس فساد کو جس طرح بی جے پی کے اےم اےل اے نے بھڑکا ےااور پولےس اہلکاروں کو ہندوتو کا واسطہ دے کر فائرنگ کرنے پر اکساےا اس بی جے پی کی ذہنےت کی اےک مرتبہ پھر پول کھول کر رکھ دی ہے وہ کبھی بھی مسلمانوں کی خےر خواہ نہےں ہوسکتی۔ سےد شاہ نواز حسےن، مختار عباس نقوی اور تنوےر احمد جےسے بی جے پی مےں شامل مسلم لےڈروں کے لئے اےک تازےانہ ہے۔ وہےں کانگرےس مےں شامل مسلم لےڈروں کے لئے بھی چلو بھر پانی مےں ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ وہ لےڈر، اےم اےل اے، ممبر پارلےمنٹ، وزےر ہوکر بھی اےک ہندو چپراسی سے زےادہ لاچار ہےں وہ مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے مےں مکمل طور پر ناکام رہے ہےں۔ قبرستان کا معاملہ جسے گوجروں نے متنازعہ بنادےا تھا، ےہ معاملہ جب حل ہوگےا تھا اور فرےقےن کے مابےن سمجھوتہ ہوگےاتھا تو آخر کس نے فائرنگ کی؟۔

انہد کی سربراہ شبنم ہاشمی جنہوں نے اگلے روز ہی (جمعہ) کو فساد زدہ علاقے کا دورہ کےا تھا وہ لگاتار گوپال گڑھ سے راقم الحروف کے رابطہ مےں تھےں اور وہاں کے ہولنا ک منظر اور پولےس افسران کے روےے کے بارے مےں بتارہی تھےں کہ کس طرح پولےس افسران فساد زدہ علاقے مےں جانے سے روکنے کی حتی الامکان کوشش کررہے تھے لےکن محترمہ شبنم ہاشمی نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغےر کسی سےکورٹی کے وہاں گئیں اور متاثرےن سے ملاقات کی اور ان کے درد کو جاننے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتاےا کہ کنوﺅں اور تالابوں مےں جلی ہوئی لاشےں تےرتی پائی گئیں۔ دردناک منظر بےان کرتے ہوئے بتاےا کہ وہ جہاں جہاں ممکن ہوا وہ گئےں عےدگاہ کے پےچھے جہاں کے بارے مےں کہا جاتا ہے کہ بہت ساری لاشوں کو جلاےا گےا ہے وہاں جانے نہےںدےا گےا اور گرفتار کرکے گوپال گڑھ کے علاقے کے باہر چھوڑ دےا لےکن انہوں نے جو ثبوت اکٹھا کئے ہےں وہ پولےس پر شکنجہ کسنے اور ان کی بربرےت کی کہانی کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ مسجدوں مےں خون کے بکھرے نشان، قرآن کے بکھرے اوراق، لاشوں کے گھسےٹنے کے نشان، دےواروں پر تابڑتوڑ گولےوںکے نشانات ےہ سب پولےس اور گوجروں کی حےوانےت اور درندگی کی کہانی بےان کر رہے تھے۔ پولےس کی ساری توجہ اس بات پر تھی کہ وہ لوگ فساد زدہ علاقے مےںزےادہ دےر تک نہ رکےں تاکہ جرم کے نشانات مٹانے مےں آسانی ہو اور بہت سی جگہ انہوں نے اےسا کےا بھی۔ جب ان لوگوں کے مزےد علاقے مےں جانے کی ضد کی تو انہوں نے کہا کہ گوجر لےڈر بےنسلا اور وی اےچ پی لےڈر پروےن توگڑےا کو بلالےنے کی دھمکی دی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ ہداےات حکومت سے نہےں ان لوگوں سے لے رہے تھے اور ان لوگوں کے منصوبوں کو انجام دے رہے تھے۔ محترمہ شبنم نے بتاےا کہ پولےس افسران گاﺅں والوں کو دھمکےاں دے رہے تھے کہ انہےں کچھ نہ بتائے ورنہ انہےں جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔ اسی لئے پولےس افسران ہر جگہ ان کا پےچھا کر رہے تھے تاکہ حقائق کا مکمل کا ادراک نہ کرلےں ۔
جس طرح مسلم کش فسادات مےں پولےس افسران کا رول نماےاں ہوتا ہے ےہاں بھی ےہی ہوا ۔ ےہاں کے ڈی اےم اور اےس پی نے اس مےں نہ صرف نماےاں رول ادا کےا بلکہ گوجر فسادےوں کو ساےہ بھی فراہم کےا ۔ متاثرےن نے ےہاں تک الزام لگاےا کہ گوجر فسادی پولےس کی گولےوں سے فائرنگ کررہے تھے۔ پولےس کس قدر فرقہ پرست اور مسلم دشمن ہوگئی ہے اس واقعہ سے مزےد اندازہ لگاےا جاسکتا ہے۔ گجرات فسادات کے دوران بھی پولےس نے نہ صرف فسادےوں کا کھل کر ساتھ دےا بلکہ فسادےوں کو تحفظ بھی فراہم کےا تھا۔ اس فساد مےں مقامی لوگوں کے مطابق درجنوں افراد مارے گئے ہےں لےکن پولےس کی تعداد ابھی تک چار محدود ہے۔ پہلے پولےس والوں ےہ تعداد چھ بتائی تھی اور کہا تھا کہ تعداد ہلاکت بڑھ سکتی ہے لےکن تازہ اطلاعات کے مطابق ےہ تعداد کم ہوکر چار رہ گئی ہے۔ گاﺅں والوںنے سات لوگوں کی فہرست دی ہے اور اس کے علاوہ بہت سارے لوگوں کا نام بتاےا ہے جو ابھی تک غائب ہےں اور کہےں کوئی اتہ پتہ نہےں ہےں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان لوگوں کی لاشوں کو جلاکر تباہ کردےا گےا ےا غائب کردےا گےا ہے۔ ہمےشہ کی طرح پولےس نے مسلمانوں پر فائرنگ کرنے سے پہلے نہ تو کوئی وارننگ جاری کی اور نہ ہی پانی کی بوجھار کی اور نہ ہی آنسو گےس کے گولے داغے سےدھے فائرنگ کی جس کی وجہ ہلاکت کی تعداد کافی ہے اور زخمی بھی بے شمار ہےں۔

ہندوستان مےں فسادات قتل عام کرنے کا بہترےن ذرےعہ ہےں اس مےں زےادہ سے زےادہ لوگوں کو قتل کےا جاسکتا ہے اور بے شمار املاک لوٹی جاتی ہےں اور سزا کسی کو بھی نہےں ہوتی۔ ہجوم کا بہانہ بناکر انتظامےہ اپنا دامن بچالےتی ہے۔ ملک مےں چار اےسے فسادات ہوئے ہےں جنہےں اقوام متحدہ کے اصول کے مطابق قتل عام کے درجے مےں رکھے جاسکتے ہےں۔ ۴۸۹۱ کے سکھ فسادات، ۷۸۹۱ کے بھاگلپور فسادات، ۳۹۔۲۹۹۱ کے بمبئی فسادات اور ۲۰۰۲ کے گجرات فسادات۔ ان چاروں فسادات مےں ہزاروں انسانوں کی جانےں ضائع ہوئی تھےں لےکن انصاف کا حصول ہنوز دور ہے۔ دراصل فسادات کے دوران پولےس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے بلکہ بعض پولےس اہلکار فسادےوں کو کمک پہنچاتے ہےں اور آڑ فراہم کرتے ہےں تاکہ وہ جم کر لوٹ مار کرسکےں۔اس کا مقصد صرف ےہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے ےہاں کی زمےن تنگ کی جائے جس مےں وہ بہت حد تک کامےاب بھی ہوجاتے ہےں۔ رضاکار تنظےم انہد اور ہےومن رائٹًس نےٹ ورک نے کچھ سالوں قبل اس سلسلے مےں اےک سروے کےا تھا۔ جس مےں انہوں نے پاےا تھا کہ حکومت کی تبدےلی کے باوجود لوگوں کے سلوک، روےے، ذہن اور دل و دماغ مےں کوئی تبدےلی نہےں ہوئی ہے۔ انہد اور ہےومن رائٹس نےٹ ورک نے جموں و کشمےر، راجستھان، اترپردےش، مغربی بنگال، کےرالہ اور جھارکھنڈ سمےت ملک کی رےاستوں مےں ےہ سروے کرواےا تھا۔ سروے کے نتائج بتاتے ہےں کہ ملک مےں گجرات کے طرز پراب بھی اقلےتوں کے خلاف مورچہ بندی کا سلسلہ جاری ہے اور سےاست، تعلےم اور کاروبار سمےت زندگی کے ہر شعبے مےں اقلےتوں کے ساتھ نانصافی بلکہ ان کے انسانی حقوق کی سنگےن خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ انہدکی سربراہ شبنم نے بتاےا تھا کہ حد تو ےہ ہے کہ فسطائےت کا نظرےہ اس قدر حاوی ہوچکا ہے کہ اگر مظلوم فرےاد لے کر تھانہ مےں جاتا ہے تو وہاں کوئی اےف آئی آر درج کرنے کے لئے بھی تےار نہےںہوتا ۔سروے مےں کہا گےا تھا کہ جن رےاستوں مےں بی جے پی کی حکومتےں ہےں وہاں اقلےتوں پر مظالم بڑھ گئے ہےں اور فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرےن کو کسی بھی طرح کی مدد نہےں ملتی۔

بھرت پور کے قصبہ گوپال گڑھ کے فساد سے اےسا معلوم ہوتا ہے کہ فوج کے درمےان لڑائی ہوئی ہو۔ڈی اےم، اےس پی، بی جے پی کے اےم اےل اے کوہندوستان مےں کےوں چھوٹ حاصل ہے جب چاہتے ہےں جہاں چاہتے ہےں مسلمانوں کو گولی چلواکر بھون ڈالتے ہےں اور ہندوستان کا کوئی قانون اس کا بال بھی باکا نہےں کرپاتااسی طرح ”کارنامہ“ فاربس گنج مےں ۳ جون کو بی جے پی اےم اےل سی کے اشارے پر انجام دےا گےا تھا۔ ےہ دراصل آئندہ سال ہونے والی رےاستی انتخابات اور ۴۱۰۲ کے پارلےمانی الےکشن کی تےاری ہے۔ بی جے پی صرف خون خرابہ کرکے کامےابی حاصل کرنا چاہتی ہے اور کانگرےس کا نکما پن اس کے لئے معاون ثابت ہورہاہے۔ کانگرےس اور بی جے پی مےں زےادہ فرق نہےں ہے بی جے پی علی الاعلان مسلما نوںکو نقصان پہنچاتی ہے اور کانگرےس خفےہ طرےقے۔گوپال گڑھ مےں جو کچھ ہوا وہ منصوبہ بند اور حکمت کی شہہ پر ہوا ہے اگر کہےں اور ہوتا اور مسلمان کے علاوہ کوئی مارا جاتا تو ڈی اےم ، اےس پی کو برخاست کرکے جےل مےں ڈالا جا چکا ہوتا لےکن ےہاںمعاملہ مسلمانوں کا ہے اس لئے ان دونوں کو نوازنے کی تےاری ہورہی ہوگی کےوں کہ ان دونوں مسلمانوں کو قتل ، ان کے مکانوں، دکانوں اور مذہبی مقامات کو جلاکر بہت اچھا کام کےا ہے۔ ہندوانتہا پسندی سب سے زےادہ خطرناک ہے جےساکہ وزےر داخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے کےوں کہ وہ کھلم کھلا اور آسانی سے کہےں بھی جا آسکتے ہےں، کہےں کچھ بھی رکھ سکتے ہےں کےوں کہ پولےس اور حکام کی نظر مےں ہندو انتہا پسند ہو ہی نہےں سکتے اس لئے اسے نظر انداز کردےتے ہےں۔ مسلمان سب سے بڑا ٹارگےٹ ہوتا ہے کےوں کہ پولےس اور حکام کو معلوم ہے کہ ان کے کےسا بھی سلوک کےوں نہ کرلےا جائے کوئی کچھ نہےں کہے گا جےسا کہ گجرات فسادات اور ۲۹۹۱ کے ممبئی فسادات ملوث پولےس افسران ترقی دی گئی اور جانبدار رہنے والے افسران کو تنزلی کا شکار ہونا پڑا۔ ےہ ہمارا سسٹم ہی اےسا ہے جہاں سچ کی کوئی گنجائش نہےں ہے اور جھوٹ کو ہوا دی جاتی ہے کےوں کہ جھوٹ بولنے والوں کی تعداد اتنی بڑی ہوتی ہے کہ سچ دب کر رہ جاتا ہے۔

Abid Anwar
مےڈےا اور سےاست دانوں نے ےہاں کے باشندوں مےں اس قدرمسلمانوں کے خلاف زہر بھر دےا ہے کہ ۷۵۸۱ مےں مسلمانوں کے شانہ بشانہ جنگ آزادی مےں حصہ لےنے والے گوجر بھی مسلمانوں کو تہہ تےغ کرنے پر آمادہ ہوگئے ۔ مورخےن کے مطابق گوجروں کا تعلق سورےہ ونشی یا رگھونشی ہے۔ قدیم شاعر راجسےکھرنے گوجر کو رگھو کل تلک اور رگھوگرامنی کہا ہے۔ 7 ویں سے 10 وی صدی کے گوجر پتھر پر کندہ عبارت سورےہ دےو کی مورتےوں سے ان کے سورےہ ونشی ہونے کی تصدےق ہوتی ہے اور راجستھان کو آج بھی گوجروں کو مےہر کہا جاتا ہے جس کا مطلب سورج ہوتا ہے۔ کچھ مورخےن کے مطابق گوجر وسطی ایشیا کے کاکےشس علاقے موجودہ آرمینیا اور جارجیا) سے آنے والے جنگجوتھے۔ ان کی حکومت راجستھان اور کجرات کے کچھ مےں بھی تھی اور اس کے علاوہ کئی علاقے مےں حکومت ان کی چھوٹی موٹی حکومتےں تھےں۔ گوجر 500 سے زیادہ فرقوں مےں منقسم ہیں۔ ان میں ہندو ، مسلمان ، سکھ اور عیسائی بھی ہیں۔یہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پاکستان ، افغانستان ، ایران اور ےوکرےن میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ہندوستان میں یہ اتر پردیش ، راجستھان ، گجرات ، مدھیہ پردیش ، ہریانہ ، کرناٹک ، جموں اور کشمیر ، دہلی اور اڑیسہ میں بسے ہیں ان کی آدھی آبادی اتر پردیش ، راجستھان اور گجرات میں ہے۔ جموں اور کشمیر اور ہماچل پردیش کو چھوڑ کر یہ کسی ریاست میں درج فہرست قبائل یا قبائلی کمیونٹی میں نہیں آتے ہیں۔ راجستھان اور دیگر ریاستوں میں یہ دیگر پسماندہ طبقوں میں آتے ہیں جبکہ روایتی ہندوو ¿ں کے ورن نظام میں انہیں چھتریہ یعنی اعلی ذات کا تصور کیا جاتا ہے۔انہےں آرےہ بھی کہا جاتا ہے۔ گوجرطبقہ گزشتہ چار پانچ سالوں سے سرخےوں مےں ہےں۔ جب انہوںنے راجستھان مےں گوجر طبقہ کو درج فہرست قبائل مےں شامل کرانے کے لئے تحرےک چلائی اور کبھی تحرےک خونرےز رہی تو کبھی پرامن لےکن اس کے نتےجے مےں حکومت اور رےلوے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ اپنی پرتشدد تحرےک کے ذرےعہ انہوں نے حکومت کو گھٹنے ٹےکنے پر مجبور کردےا۔ اسی سے تحرےک پاکرگوجروں نے مسلمانوں پر گوپال گڑھ مےں قہر ڈھاےا ہے حالانکہ ان کی آبادی دو ڈھائی فےصد سے زائد نہےں ہے بلکہ اتحاد نے انہےں ہےرو بنادےا ہے لےکن مسلمان ۰۲ فےصد سے زائد ہونے کے باوجود اےک عضو معطل ہوکر رہ گئے ہےں کےوں کہ ان مےں اتحاد کا فقدان ہے۔

[Abid Anwar. Address: D-64/10 Abul Fazal Enclave Jamia Nagar, New Delhi- 110025. Mobile #: 9810372335. Email: abidanwaruni@gmail.com]

سالی گالی نہیں

Posted by Indian Muslim Observer | 19 March 2011 | Posted in

انجم نعیم



گالیوں پر سنسر بورڈ کے اعتراض نے فلمسازوں کو بوکھلادیا
مذید پڑھنے کے لیے عنوان پر کلک کریں


بم دھماکوں کے الزام سے بری ہونے کے بعد دوسرے کیس میں پھنسانے کی تیاری

Posted by Indian Muslim Observer | | Posted in

انجم نعیم



 کانگریس اپنے سیکولرازم پر چاہے جتنی اترائے -  مذید پڑھنے کے لیے عنوان پر کلک کریں

تلنگانہ کامسلمان

Posted by Indian Muslim Observer | 18 March 2011 | Posted in

انجم نعیم




ہندوستان میں مسلمانوں کے مسائل کا جب ذکر آتا ہے- مذید پڑھنے کے لیے عنوان پر کلک کریں


Editor's Pick

विदेशी तब्लीगी जमाअत के लोगों की रिहाई के लिए इम्पार का गृह सचिव को पत्र

मद्रास हाई कोर्ट के आदेश के बाद आने वाली बाधा को गृह मंत्रालय से दूर करने की अपील  नयी दिल्ली: इंसानी बुनियादों पर विदेशी तबलीगी जमात के लोग...

IMO Search Finder

Subscribe IMO

    Archive