► WELCOME to www.IndianMuslimObserver.com -- India's Leading Muslim News Portal. ► Indian Muslim Observer has completed its over 10 years of existence. Your Patronage and Support will help us sustain for long. ► ADVERTISE & REACH OUT to the WORLD!! ► Redefining Community Journalism. ► IMO Motto: "Breaking Perceptions. Delivering Truth". ► Bringing you News, Views, Analysis and all that affects Muslims in India and worldwide. ► IMO Website BEST VIEWED on Google Chrome!!!
 
13 December 2011

فاربس گنج پولیس فائرنگ معاملے میں سپریم کورٹ کے نوٹس کو حکومت بہار نے نظر انداز کیا۔دستی نوٹس کے لئے اپیل دائر

Bookmark and Share

عابد انور

نئی دہلی/ فاربس گنج،۹ دسمبر حکومت بہار نے فاربس گنج کے بھجن پور میں گزشتہ 3 جون کو ہونے والی پولیس فائرنگ معاملہ میں سپریم کورٹ سے جاری نوٹس کامقررہ مدت چھ ہفتے گزر جانے کے بعد بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ اب دستی نوٹس بھیجوانے کے لئے سپریم کورٹ میں دوبارہ عرضی ۷ دسمبر کو دائر کی گئی ہے۔
عرضی گذار غیرسرکاری تنظیم اے پی سی آر دہلی کے سکریٹری اخلاق احمد نے بتایاکہ سپریم کورٹ نے مفاد عامہ کے تحت دائر کی گئی ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے بہار حکومت کو گزشتہ ۱۰ اکتوبر کو نوٹس جاری کیا تھا جس میں سی بی آئی سے انکوائری، ارریہ کی ایس پی گریماملک کی برخاستگی کی مانگ کے ساتھ حکومت بہار ،ایس پی ارریہ اور مرکزی حکومت کو فریق بنایا گیا تھا۔
عرضی گزار کے وکیل کولن گونزالویس کے مطابق اس عرضی میں مرکزی حکومت، حکومت بہار اور ارریہ کی ایس پی گریما ملک کو فریق بنایا گیاہے کیوں کہ ایس پی نے ہی مبینہ طو رپر فائرنگ کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اس عرضی میں مطالبہ کیاگیا ہے کہ پولیس فائرنگ میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔اس کا کیس نمبر 195-2011ہے جب کہ جج جسٹس آر ایم لودھا اور جسٹس جگدیش سنگھ کھیہر ہیں۔
اے پی سی آر کے اخلاق احمد حکومت بہار کے رویہ پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں کو نتیش حکومت نے سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب نہ دے کر جس قدر لاپروائی کا ثبوت پیش کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مظلوموں کو انصاف نہیں دینا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ نتیش کمار کا عدالتی انکوائری کا اعلان معاملے پست پشت ڈالنے کے سوا کبچھ بھی نہیں ہے ان کے رویے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگر عدالتی انکوائری کمیشن کی رپورٹ آبھی گئی تو وہ اس پرکس حد تک عمل کرے گی۔
سپریم کورٹ کے نوٹس کا جواب نہ دینے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بہار کلانگریس کے ترجمان ڈاکٹر شکیل احمد خاں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس واقعہ کی سنگینی کے پیش حکومت بہار کو نوٹس جاری کیا تھا لیکن اس کا جواب نہ دینا حکومت بہار کی بے حسی کو ظاہر کرتا ہے اور اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ نتیش حصول انصاف کی مدت کو طویل کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کو چھ ماہ ہوچکے ہیں لیکن اس سمت میں ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی ڈی ایم اور ایس ڈی او کو معطل یا ٹرانسفر کیا گیاہے اور مہلوکین کے ورثاء اور زخمیوں کو کوئی معاوضہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔
نہرو یووا کیندر کے سابق ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر شکیل احمد خاں نے کہا کہ وہاں جس طرح کا ماحول ہے اور خاطی افسران اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ابھی تک انہیں نہ تو معطل کیا گیا ہے اور نہ ہی تبادلہ ایسے حالات میں کسی عدالتی انکوائری کمیشن کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔انہوں نے کہا کہ جس طرح عدالتی کمیشن نے رویہ اختیار کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ کے دباؤ میں کام کرررہا ہے۔ پولیس فائرنگ کے متاثرین کو انصاف ملنے کی امید نہیں کے برابر ہے۔اس لئے سی بی آئی انکوائری ضروری ہوگئی ہے۔
سوشل ویلفےئر ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن کے سکریٹری اور سپریم کورٹ کے وکیل اشفاق عالم ، ارریہ ضلع کانگریس کے سکریٹری اویس یاسین اور ضلع کمیٹی کے ترجمان عابد حسین نے بھی بہار حکومت کے رویے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں مظلومین کے ساتھ انصاف ناممکن سا ہوگیا ہے اور نتیش کمار حکومت نریندر مودی کی راہ پر چل رہی ہے اس وقت ہم لوگ چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک مظلوموں کو انصاف نہیں مل جاتا۔
واضح رہے کہ فاربس گنج کے بھجن پور میں گزشتہ تین (۳) جون کو ہونے والی پولیس فائرنگ میں چار مسلمان ہلاک ہوگئے تھے۔ ایک پرائیویٹ کمپنی نے گاؤں والوں کا راستہ بندکردیا تھا۔ یہ اکیلا ایسا راستہ تھا جو گاؤں والوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے بازار، کربلا، عیدگاہ اور اسپتال سے جوڑتا ہے۔ یہ راستہ گاؤں والوں کی اپنی زمین پر واقع ہے جو 1956 سے زیر استعمال ہے۔ حکومت بہار نے جو زمین ایکوائر کی ہے اسے چھوڑ کر ایکوائر کی ہے اور اس کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا ہے۔
میڈیا ایڈوائزر
فاربس گنج پولیس فائرنگ ایکشن کمیٹی
9810372335

No comments:

Post a Comment