► WELCOME to www.IndianMuslimObserver.com -- India's Leading Muslim News Portal. ► Indian Muslim Observer has completed its over 10 years of existence. Your Patronage and Support will help us sustain for long. ► ADVERTISE & REACH OUT to the WORLD!! ► Redefining Community Journalism. ► IMO Motto: "Breaking Perceptions. Delivering Truth". ► Bringing you News, Views, Analysis and all that affects Muslims in India and worldwide. ► IMO Website BEST VIEWED on Google Chrome!!!
 
24 September 2011

تےشہ فکر: بھرت پور فساد گجرات قتل عام کی توسےع تو نہےں؟

Bookmark and Share
  عابد انور

کےا ہندوستان فسطائےت کی طرف تےزی سے قدم بڑھا رہا ہے؟ کےا ےہاں جمہورےت صرف دکھاوے کی ہے ےا صرف مسلمانوں پر حکومت کرنے اور ان پر تمام قوانےن کا نفاذ کرنے کے لئے ہے؟ ۔ کیا ہندوستان کی پولےس پوری طرح کمےونلائزڈ ہوگئی ہے؟،ےہاں کے سول اور اعلی پولےس افسران پوری طرح ہندوتو کے اےجنڈے پر کام کر رہے ہےںاور دنےا کودکھانے کے لئے تمام طرح کی جمہوری باتےں کہی جاتی ہےں؟، کےا ہندوستان مےں مسلمانوں کا وجود صرف گولی کھانے، ذلت برداشت کرنے، لےڈروں، وزےروں کے سامنے چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کے لئے گڑگڑانے تک محدود ہے؟، جب بھی ملک مےں کہےں بم دھماکہ ہوتا ہے مےڈےا اور پولےس افسران صرف مسلمانوں کو صرف کےوں نشانہ بناتے ہےں؟، آزادی کے ۶۶ برس کے بعد مےں ہندوستان مےں مسلمانوں کے تئےں نظرےے مےں کوئی تبدےلی آئی ہے؟ کےا ہندوستان مےں حکومتی اداروں ، پولےس ، سول افسران اور سےاست داں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی کھےتی کو ہری بھری کرنے مےں نماےاں رول ادا نہےں کر رہے ہےں؟کےا ہندوستان حقےقت مےں جمہوری ملک کا کردار ادا کر رہا ہے ےا صرف جمہورےت کا وجود اس حد تک گوارہ ہے کہ آپس مےں ہندو نہ لڑےں اور اس کے سہارے مسلمانوں کو کسی شعبہ مےں آگے نہ بڑھنے دےا جائے؟۔ اےسے سےکڑوں سوال ہےں جو ہر ہندوستانی مسلمانوں (سوائے ضمےر فروش مسلم لےڈروں، مسلمانوں،مولوےوں، خانقاہےوں) کے دل مےں کوند رہا ہے۔ آزادی کے بعد لامتناہی فسادات کے بہانے مسلمانوں کا قتل عام، ان کی زمےن و جائداد پر قبضہ، منصوبہ بند طرےقہ سے وقف املاک کی تباہی، فسادات کے دوران صرف مسلمانوں کی فےکٹریوں اور دکانوں کو نشانہ بنانا، مسلم خواتےن کی اس موقع پر منظم طور پر آبرورےزی ےہ اےسے معاملے ہےں جوےہاں کے مسلمان مسلسل اس سے دوچار ہورہے ہےں۔ ہر مسلمانوں کے دل مےں ےہ سوال گونج رہا ہے کےا تہ تمام چےزےں ہندوستانی جمہورےت کا حصہ ہےں اگر نہےں ہےں پھر اس کی روک تھام کےوں نہےں کی گئی اور کےوں نہےں آج تک ان مجرموں کو سزائےں دی گئےں۔ پولےس جب بھی مسلمانوں پر فائرنگ کرتی ہے اس کا نشانہ صرف ان کا سر، سےنے اور پےٹ ہی کےوں ہوتا ہے۔ مسلمانوں پر حالےہ فائرنگ کے واقعات مےں خواہ فاربس گنج کے بھجن پور مےں پولےس فائرنگ ہوےا اررےہ کے بٹراہا مےںاےس اےس بی کے جوانوں کے ذرےعہ مسلم بچےوں کی عصت دری کے واقعہ کے خلاف احتجاج کے نتےجے مےں اےس اےس بی کے فائرنگ مےںچار مسلمانوں کو ہلاک کرنے ےا بھرت پور کے گوپال گڑھ کا حالےہ سانحہ ہر بار پولےس نے مسلمانوں کے سےنے، سر، پےٹ پر گولےاں برسائی ہےں۔کےا ےہ ملک کی پولےس کی ٹرےننگ کا اےک حصہ ےہ ہے ؟ اس کی وضاحت حکومت کی طرف سے ضروری ہے۔

بھرت پور کے گوپال گڑھ قصبہ مےں جو کچھ ہوا ہے وہ ہندوستان مےں مسلمانوں کو ہر حال مےں تباہ کرنے کی پالےسی کا اےک حصہ ہے ۔ ےہ گجرات مےں ۲۰۰۲ مےں انجام دئے گئے قتل عام کی توسےع ہے ۔ حکومت خواہ کسی کی بھی ہو مسلمانوں کو ہر حال مےں پولےس کی گولی کا نشانہ بننا ہوگا۔ اس فساد مےں جس طرح پولےس نے گوجروں کا ساتھ دےا اور اندھا دھند فائرنگ کی اس سے اندازہ ہورہا ہے کہ جےسے سرحد پر گولےاں چل رہی ہوں اور ہر حال مےں دشمن کو نےست و نابود کرکے ہی دم لےنا ہے۔ جمعرات کو ہونے والے اس فساد کو جس طرح بی جے پی کے اےم اےل اے نے بھڑکا ےااور پولےس اہلکاروں کو ہندوتو کا واسطہ دے کر فائرنگ کرنے پر اکساےا اس بی جے پی کی ذہنےت کی اےک مرتبہ پھر پول کھول کر رکھ دی ہے وہ کبھی بھی مسلمانوں کی خےر خواہ نہےں ہوسکتی۔ سےد شاہ نواز حسےن، مختار عباس نقوی اور تنوےر احمد جےسے بی جے پی مےں شامل مسلم لےڈروں کے لئے اےک تازےانہ ہے۔ وہےں کانگرےس مےں شامل مسلم لےڈروں کے لئے بھی چلو بھر پانی مےں ڈوب مرنے کا مقام ہے کہ وہ لےڈر، اےم اےل اے، ممبر پارلےمنٹ، وزےر ہوکر بھی اےک ہندو چپراسی سے زےادہ لاچار ہےں وہ مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے مےں مکمل طور پر ناکام رہے ہےں۔ قبرستان کا معاملہ جسے گوجروں نے متنازعہ بنادےا تھا، ےہ معاملہ جب حل ہوگےا تھا اور فرےقےن کے مابےن سمجھوتہ ہوگےاتھا تو آخر کس نے فائرنگ کی؟۔

انہد کی سربراہ شبنم ہاشمی جنہوں نے اگلے روز ہی (جمعہ) کو فساد زدہ علاقے کا دورہ کےا تھا وہ لگاتار گوپال گڑھ سے راقم الحروف کے رابطہ مےں تھےں اور وہاں کے ہولنا ک منظر اور پولےس افسران کے روےے کے بارے مےں بتارہی تھےں کہ کس طرح پولےس افسران فساد زدہ علاقے مےں جانے سے روکنے کی حتی الامکان کوشش کررہے تھے لےکن محترمہ شبنم ہاشمی نے اپنی جان کی پرواہ کئے بغےر کسی سےکورٹی کے وہاں گئیں اور متاثرےن سے ملاقات کی اور ان کے درد کو جاننے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتاےا کہ کنوﺅں اور تالابوں مےں جلی ہوئی لاشےں تےرتی پائی گئیں۔ دردناک منظر بےان کرتے ہوئے بتاےا کہ وہ جہاں جہاں ممکن ہوا وہ گئےں عےدگاہ کے پےچھے جہاں کے بارے مےں کہا جاتا ہے کہ بہت ساری لاشوں کو جلاےا گےا ہے وہاں جانے نہےںدےا گےا اور گرفتار کرکے گوپال گڑھ کے علاقے کے باہر چھوڑ دےا لےکن انہوں نے جو ثبوت اکٹھا کئے ہےں وہ پولےس پر شکنجہ کسنے اور ان کی بربرےت کی کہانی کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔ مسجدوں مےں خون کے بکھرے نشان، قرآن کے بکھرے اوراق، لاشوں کے گھسےٹنے کے نشان، دےواروں پر تابڑتوڑ گولےوںکے نشانات ےہ سب پولےس اور گوجروں کی حےوانےت اور درندگی کی کہانی بےان کر رہے تھے۔ پولےس کی ساری توجہ اس بات پر تھی کہ وہ لوگ فساد زدہ علاقے مےںزےادہ دےر تک نہ رکےں تاکہ جرم کے نشانات مٹانے مےں آسانی ہو اور بہت سی جگہ انہوں نے اےسا کےا بھی۔ جب ان لوگوں کے مزےد علاقے مےں جانے کی ضد کی تو انہوں نے کہا کہ گوجر لےڈر بےنسلا اور وی اےچ پی لےڈر پروےن توگڑےا کو بلالےنے کی دھمکی دی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ ہداےات حکومت سے نہےں ان لوگوں سے لے رہے تھے اور ان لوگوں کے منصوبوں کو انجام دے رہے تھے۔ محترمہ شبنم نے بتاےا کہ پولےس افسران گاﺅں والوں کو دھمکےاں دے رہے تھے کہ انہےں کچھ نہ بتائے ورنہ انہےں جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑسکتا ہے۔ اسی لئے پولےس افسران ہر جگہ ان کا پےچھا کر رہے تھے تاکہ حقائق کا مکمل کا ادراک نہ کرلےں ۔
جس طرح مسلم کش فسادات مےں پولےس افسران کا رول نماےاں ہوتا ہے ےہاں بھی ےہی ہوا ۔ ےہاں کے ڈی اےم اور اےس پی نے اس مےں نہ صرف نماےاں رول ادا کےا بلکہ گوجر فسادےوں کو ساےہ بھی فراہم کےا ۔ متاثرےن نے ےہاں تک الزام لگاےا کہ گوجر فسادی پولےس کی گولےوں سے فائرنگ کررہے تھے۔ پولےس کس قدر فرقہ پرست اور مسلم دشمن ہوگئی ہے اس واقعہ سے مزےد اندازہ لگاےا جاسکتا ہے۔ گجرات فسادات کے دوران بھی پولےس نے نہ صرف فسادےوں کا کھل کر ساتھ دےا بلکہ فسادےوں کو تحفظ بھی فراہم کےا تھا۔ اس فساد مےں مقامی لوگوں کے مطابق درجنوں افراد مارے گئے ہےں لےکن پولےس کی تعداد ابھی تک چار محدود ہے۔ پہلے پولےس والوں ےہ تعداد چھ بتائی تھی اور کہا تھا کہ تعداد ہلاکت بڑھ سکتی ہے لےکن تازہ اطلاعات کے مطابق ےہ تعداد کم ہوکر چار رہ گئی ہے۔ گاﺅں والوںنے سات لوگوں کی فہرست دی ہے اور اس کے علاوہ بہت سارے لوگوں کا نام بتاےا ہے جو ابھی تک غائب ہےں اور کہےں کوئی اتہ پتہ نہےں ہےں۔ ظاہر سی بات ہے کہ ان لوگوں کی لاشوں کو جلاکر تباہ کردےا گےا ےا غائب کردےا گےا ہے۔ ہمےشہ کی طرح پولےس نے مسلمانوں پر فائرنگ کرنے سے پہلے نہ تو کوئی وارننگ جاری کی اور نہ ہی پانی کی بوجھار کی اور نہ ہی آنسو گےس کے گولے داغے سےدھے فائرنگ کی جس کی وجہ ہلاکت کی تعداد کافی ہے اور زخمی بھی بے شمار ہےں۔

ہندوستان مےں فسادات قتل عام کرنے کا بہترےن ذرےعہ ہےں اس مےں زےادہ سے زےادہ لوگوں کو قتل کےا جاسکتا ہے اور بے شمار املاک لوٹی جاتی ہےں اور سزا کسی کو بھی نہےں ہوتی۔ ہجوم کا بہانہ بناکر انتظامےہ اپنا دامن بچالےتی ہے۔ ملک مےں چار اےسے فسادات ہوئے ہےں جنہےں اقوام متحدہ کے اصول کے مطابق قتل عام کے درجے مےں رکھے جاسکتے ہےں۔ ۴۸۹۱ کے سکھ فسادات، ۷۸۹۱ کے بھاگلپور فسادات، ۳۹۔۲۹۹۱ کے بمبئی فسادات اور ۲۰۰۲ کے گجرات فسادات۔ ان چاروں فسادات مےں ہزاروں انسانوں کی جانےں ضائع ہوئی تھےں لےکن انصاف کا حصول ہنوز دور ہے۔ دراصل فسادات کے دوران پولےس خاموش تماشائی بنی رہتی ہے بلکہ بعض پولےس اہلکار فسادےوں کو کمک پہنچاتے ہےں اور آڑ فراہم کرتے ہےں تاکہ وہ جم کر لوٹ مار کرسکےں۔اس کا مقصد صرف ےہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے ےہاں کی زمےن تنگ کی جائے جس مےں وہ بہت حد تک کامےاب بھی ہوجاتے ہےں۔ رضاکار تنظےم انہد اور ہےومن رائٹًس نےٹ ورک نے کچھ سالوں قبل اس سلسلے مےں اےک سروے کےا تھا۔ جس مےں انہوں نے پاےا تھا کہ حکومت کی تبدےلی کے باوجود لوگوں کے سلوک، روےے، ذہن اور دل و دماغ مےں کوئی تبدےلی نہےں ہوئی ہے۔ انہد اور ہےومن رائٹس نےٹ ورک نے جموں و کشمےر، راجستھان، اترپردےش، مغربی بنگال، کےرالہ اور جھارکھنڈ سمےت ملک کی رےاستوں مےں ےہ سروے کرواےا تھا۔ سروے کے نتائج بتاتے ہےں کہ ملک مےں گجرات کے طرز پراب بھی اقلےتوں کے خلاف مورچہ بندی کا سلسلہ جاری ہے اور سےاست، تعلےم اور کاروبار سمےت زندگی کے ہر شعبے مےں اقلےتوں کے ساتھ نانصافی بلکہ ان کے انسانی حقوق کی سنگےن خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ انہدکی سربراہ شبنم نے بتاےا تھا کہ حد تو ےہ ہے کہ فسطائےت کا نظرےہ اس قدر حاوی ہوچکا ہے کہ اگر مظلوم فرےاد لے کر تھانہ مےں جاتا ہے تو وہاں کوئی اےف آئی آر درج کرنے کے لئے بھی تےار نہےںہوتا ۔سروے مےں کہا گےا تھا کہ جن رےاستوں مےں بی جے پی کی حکومتےں ہےں وہاں اقلےتوں پر مظالم بڑھ گئے ہےں اور فرقہ وارانہ فسادات کے متاثرےن کو کسی بھی طرح کی مدد نہےں ملتی۔

بھرت پور کے قصبہ گوپال گڑھ کے فساد سے اےسا معلوم ہوتا ہے کہ فوج کے درمےان لڑائی ہوئی ہو۔ڈی اےم، اےس پی، بی جے پی کے اےم اےل اے کوہندوستان مےں کےوں چھوٹ حاصل ہے جب چاہتے ہےں جہاں چاہتے ہےں مسلمانوں کو گولی چلواکر بھون ڈالتے ہےں اور ہندوستان کا کوئی قانون اس کا بال بھی باکا نہےں کرپاتااسی طرح ”کارنامہ“ فاربس گنج مےں ۳ جون کو بی جے پی اےم اےل سی کے اشارے پر انجام دےا گےا تھا۔ ےہ دراصل آئندہ سال ہونے والی رےاستی انتخابات اور ۴۱۰۲ کے پارلےمانی الےکشن کی تےاری ہے۔ بی جے پی صرف خون خرابہ کرکے کامےابی حاصل کرنا چاہتی ہے اور کانگرےس کا نکما پن اس کے لئے معاون ثابت ہورہاہے۔ کانگرےس اور بی جے پی مےں زےادہ فرق نہےں ہے بی جے پی علی الاعلان مسلما نوںکو نقصان پہنچاتی ہے اور کانگرےس خفےہ طرےقے۔گوپال گڑھ مےں جو کچھ ہوا وہ منصوبہ بند اور حکمت کی شہہ پر ہوا ہے اگر کہےں اور ہوتا اور مسلمان کے علاوہ کوئی مارا جاتا تو ڈی اےم ، اےس پی کو برخاست کرکے جےل مےں ڈالا جا چکا ہوتا لےکن ےہاںمعاملہ مسلمانوں کا ہے اس لئے ان دونوں کو نوازنے کی تےاری ہورہی ہوگی کےوں کہ ان دونوں مسلمانوں کو قتل ، ان کے مکانوں، دکانوں اور مذہبی مقامات کو جلاکر بہت اچھا کام کےا ہے۔ ہندوانتہا پسندی سب سے زےادہ خطرناک ہے جےساکہ وزےر داخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے کےوں کہ وہ کھلم کھلا اور آسانی سے کہےں بھی جا آسکتے ہےں، کہےں کچھ بھی رکھ سکتے ہےں کےوں کہ پولےس اور حکام کی نظر مےں ہندو انتہا پسند ہو ہی نہےں سکتے اس لئے اسے نظر انداز کردےتے ہےں۔ مسلمان سب سے بڑا ٹارگےٹ ہوتا ہے کےوں کہ پولےس اور حکام کو معلوم ہے کہ ان کے کےسا بھی سلوک کےوں نہ کرلےا جائے کوئی کچھ نہےں کہے گا جےسا کہ گجرات فسادات اور ۲۹۹۱ کے ممبئی فسادات ملوث پولےس افسران ترقی دی گئی اور جانبدار رہنے والے افسران کو تنزلی کا شکار ہونا پڑا۔ ےہ ہمارا سسٹم ہی اےسا ہے جہاں سچ کی کوئی گنجائش نہےں ہے اور جھوٹ کو ہوا دی جاتی ہے کےوں کہ جھوٹ بولنے والوں کی تعداد اتنی بڑی ہوتی ہے کہ سچ دب کر رہ جاتا ہے۔

Abid Anwar
مےڈےا اور سےاست دانوں نے ےہاں کے باشندوں مےں اس قدرمسلمانوں کے خلاف زہر بھر دےا ہے کہ ۷۵۸۱ مےں مسلمانوں کے شانہ بشانہ جنگ آزادی مےں حصہ لےنے والے گوجر بھی مسلمانوں کو تہہ تےغ کرنے پر آمادہ ہوگئے ۔ مورخےن کے مطابق گوجروں کا تعلق سورےہ ونشی یا رگھونشی ہے۔ قدیم شاعر راجسےکھرنے گوجر کو رگھو کل تلک اور رگھوگرامنی کہا ہے۔ 7 ویں سے 10 وی صدی کے گوجر پتھر پر کندہ عبارت سورےہ دےو کی مورتےوں سے ان کے سورےہ ونشی ہونے کی تصدےق ہوتی ہے اور راجستھان کو آج بھی گوجروں کو مےہر کہا جاتا ہے جس کا مطلب سورج ہوتا ہے۔ کچھ مورخےن کے مطابق گوجر وسطی ایشیا کے کاکےشس علاقے موجودہ آرمینیا اور جارجیا) سے آنے والے جنگجوتھے۔ ان کی حکومت راجستھان اور کجرات کے کچھ مےں بھی تھی اور اس کے علاوہ کئی علاقے مےں حکومت ان کی چھوٹی موٹی حکومتےں تھےں۔ گوجر 500 سے زیادہ فرقوں مےں منقسم ہیں۔ ان میں ہندو ، مسلمان ، سکھ اور عیسائی بھی ہیں۔یہ نہ صرف ہندوستان میں بلکہ پاکستان ، افغانستان ، ایران اور ےوکرےن میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ہندوستان میں یہ اتر پردیش ، راجستھان ، گجرات ، مدھیہ پردیش ، ہریانہ ، کرناٹک ، جموں اور کشمیر ، دہلی اور اڑیسہ میں بسے ہیں ان کی آدھی آبادی اتر پردیش ، راجستھان اور گجرات میں ہے۔ جموں اور کشمیر اور ہماچل پردیش کو چھوڑ کر یہ کسی ریاست میں درج فہرست قبائل یا قبائلی کمیونٹی میں نہیں آتے ہیں۔ راجستھان اور دیگر ریاستوں میں یہ دیگر پسماندہ طبقوں میں آتے ہیں جبکہ روایتی ہندوو ¿ں کے ورن نظام میں انہیں چھتریہ یعنی اعلی ذات کا تصور کیا جاتا ہے۔انہےں آرےہ بھی کہا جاتا ہے۔ گوجرطبقہ گزشتہ چار پانچ سالوں سے سرخےوں مےں ہےں۔ جب انہوںنے راجستھان مےں گوجر طبقہ کو درج فہرست قبائل مےں شامل کرانے کے لئے تحرےک چلائی اور کبھی تحرےک خونرےز رہی تو کبھی پرامن لےکن اس کے نتےجے مےں حکومت اور رےلوے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا۔ اپنی پرتشدد تحرےک کے ذرےعہ انہوں نے حکومت کو گھٹنے ٹےکنے پر مجبور کردےا۔ اسی سے تحرےک پاکرگوجروں نے مسلمانوں پر گوپال گڑھ مےں قہر ڈھاےا ہے حالانکہ ان کی آبادی دو ڈھائی فےصد سے زائد نہےں ہے بلکہ اتحاد نے انہےں ہےرو بنادےا ہے لےکن مسلمان ۰۲ فےصد سے زائد ہونے کے باوجود اےک عضو معطل ہوکر رہ گئے ہےں کےوں کہ ان مےں اتحاد کا فقدان ہے۔

[Abid Anwar. Address: D-64/10 Abul Fazal Enclave Jamia Nagar, New Delhi- 110025. Mobile #: 9810372335. Email: abidanwaruni@gmail.com]

No comments:

Post a Comment