Headlines
Published On:30 October 2010
Posted by Indian Muslim Observer

شوپیان سا نحہ کی گونج ایک بار پھر سنائی دی۔مذاکرات کار ، قلمکار، ہداےت کار ۔سارے شوپےان پہنچ گئے۔


بشیر اسد

کشمیر میں ایک پرانی کہاوت ہے کہ خون ناحق چالیس سال بعد بھی چیخ اُٹھتا ہے۔ اسی کہاوت کے مصداق مئی 2009ئ کا شوپیان سانح گزشتہ ہفتے اس وقت چرچے میں آیا جب 26اکتوبر کے دن معروف قلمکار ارون دتی رائے ‘ فلم ساز سنجے کاک اور پھر ریاست جموں و کشمیر کے لئے نامزد مذاکرات کار دلیپ پڈگونکر اور رادھا کمار مقتولین آسیہ جان اور نیلوفر کے گھر پہنچ گئے اور غم زدہ خاندان کے افراد جن میں آسیہ اور نیلوفر کے والد بزرگوار اور نیلوفر کے شوہر شامل ہیںسے ملے ۔

اگرچہ مذاکرات کاروں کے دورہ شوپیان کے حوالہ سے پہلے سے ہی سرگوشیاں ہورہی تھیں تاہم ارون دتی رائے اور سنجے کاک کا مقتولین کے گھر پہنچنا بالکل اچانک ہوا۔ 30مئی 2009ئ کو نند بھابھی 17سالہ آسیہ اور 22سالہ نیلوفر بعد دوپہر گھرسے رنبہ آرا کے کنارے واقع سیب کے باغ میں مویشیوں کے لئے گھاس لانے کے لئے نکلیں لیکن 31مئی دوپہر کو ان کے گھر ان کی لاشیں پہنچائیں گئیں۔ جن پر لگے زخم یہ چیخ چیخ کر بھول رہے تھے کہ دونوں درندگی کی شکار ہوئی ہیں اور عصمت لٹانے کے بعد ان کو قتل کیا گیا تھا۔ تین مہینے تک مسلسل ایجی ٹیشن چلائی گئی اور شوپیان کی لٹی عصمتوں کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے پوری وادی میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔ اس افسوسناک واقع کی تحقیقات کے لئے یک نفری کمیشن بٹھایا گیا جس کی سربراہی جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج مظفر جان کر رہے تھے ۔ کمیشن نے رپورٹ تیار کی اور اس رپورٹ کے مطابق شوپیان میں تعینات پولیس افسران نے شواہد مٹانے کے جرم کے مرتکب ہوئے تھے ۔ اس پی‘ ڈی ایس پی اور سب انسپکٹر کو معطل کیا گیا ۔ اس کے بعد جموں وکشمیر پولیس نے سپیشل انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی اور بعد میں کیس کو مرکزی تفتیشی بیورو سی بی آئی کے حوالے کیا گیا ۔ سی بی آئی نے کیس کا رخ ڈرامائی انداز میں تبدیل کیا اور اس واقع کو محض غرق آب ہونے کا کیس بتا کر مقتولین آسیہ اور نیلوفر کے وارثوں اورشوپیان بار ایسوسی ایشن کے وکلاءاور کئی ایک ڈاکٹروں کے خلاف چارج شیٹ داخل کیا اور ان پر خرمن امن کو درہم برہم کرنے اور غرق آب ہونے کے واقعہ کو سیکورٹی ایجنسیوں کی کارستانی قرار دینے کے الزام عاید کئے ۔

اس طرح انصاف کا گلہ گھونٹ دیا گیا اور متاثرہ کنبہ کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے ان پر شدید قسم کے الزامات عاید کئے حتیٰ کہ ایک موقعہ پر مقتولین کے کردار پر سوال اُٹھانے کی کوشش کی گئی ۔ بہر حال 26اکتوبر بروز منگل اس کیس نے اس وقت ایک نیا موڑ لیا جب معروف قلمکارارون دتی رائے ‘ فلم ساز سنجے کاک اور دو مذاکرات کار یکے بعد گیرے مقتولین کے گھر پہنچ گئے اور اس سانحہ کے حوالے سے متاثرہ کنبہ کی دلیل سنی ۔

ارون دتی ر ائے کے سامنے جب نیلوفر کے شوہر شکیل احمد آہنگر نے سارا ماجرا پیش کیا تو مصنفہ تقریبا ً 15منٹ تک سسکیوں میں ڈوب گئی اور آنکھوں سے اشک جاری ہوا ۔ لیکن جب ٹھیک ساڑھے بارہ بجے مذاکرات کاروں کی ٹیم شکیل کے گھر داخل ہوئی تو بہت ہی رقعت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے ۔ شکیل جو غالباً بہت کم پڑا لکھا ہے نے سانحہ کا نقشہ کھینچا تو مذاکرات کاروں کے سر براہ اور معروف صحافی دلیپ پڈگونکر جذبات پر قابو پانہ سکا اور اُس کی آنکھوں سے آنسوں کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ پروفیسر رادھا کمار جو سہ نفری مذاکرات کاروں کے ٹیم میں واحد خاتون ممبر ہے بظاہر بہت سلجھی ہوئی شخصیت کی مالک ہے تاہم شکیل کی زبانی سانحہ سے متعلق روداد سن کر وہ صرف اتنا کہہ سکی کہ درندگی کی انتہا ہے ۔

بہر حال شکیل اور اُس کے والد نسبتی نے مذاکرات کاروں کو واضح الفاظ میں بتایا کہ وہ انصاف ملنے کی اُمید کو ترک کر چکے ہیں اور اب صرف ایک بات کو لے کر جی رہے ہیں کہ کشمیر میں آسیہ اور نیلوفر جیسی اور بھی بہت سی خواتین ہیں جو درندگی کی شکار ہوئیں اور اس سے نجات پانے کا واحد راستہ کشمیر سے مکمل فوجی انخلاءہے ۔ شکیل نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کو حدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ عمر عبداللہ نے اس پورے سانحہ کے دوران سینکڑوں بار اپنے بیانات بدلے اور کبھی بھی کسی ایک بیان پر ٹک نہ سکا ۔ شکیل نے کہا کہ وہ انصاف کی دہائی کسی سے لگا ئے اور کہاں لگائیں جبکہ ان کے خانوادوں کو آج بھی ایک یا دوسرے طریقہ سے ہراساں کیا جا رہا ہے ۔

مذاکرات کاروں کے ٹیم نے اگرچہ بہت ہی محتاط الفاظ میں غم زدہ خاندان کو امید جگانے کی اپیل کی تاہم واپس نکلنے پر مذاکرات کاروں کے ذہن شوپیان سانحہ کے حوالہ سے بالکل صاف ہوئے اور اس واقعہ سے متعلق جو دور سے دلیلیں انہوں نے سنی تھی اُن کی سند پر شکوک وشبہات کا اظہار کھل کر کیا ۔ لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ شوپیان سانحہ کے شکار خاندان نے بہت ہی خوبصورت انداز میں ریاست بالخصوص وادی میں ہو رہی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا خاکہ اس طرح کھینچا کہ ریاست جموں و کشمیر کے سیاسی مسئلے کے ساتھ جڑی عدم تحفظ کی کڑی واضح ہو کر سامنے آئی ۔ آسیہ اور نیلوفر کے والد نے مسئلہ کشمیر کو وادی کشمیر کے ہر گھر کے غم واندہ کی کہانی سے تعبیر کیا اور کہا کہ اُن کے نزدیک مسئلہ کشمیر آسیہ اور نیلوفر جیسی ہزاروں بیٹیوں کی لٹی عصمتوں کا مسئلہ ہے اور ان لٹی عصمتوں کو دل و دماغ میں بٹھاتے والدین کا قصہ ہے اور ان واقعات کے شواہد بچوں کی نیندوں میں خوفناک مناظر کا مسئلہ ہے ۔ اور کشمیر ی عوام کو ان خوفناک مناظر کے ذمہ دار فوجوں سے نجات چاہیے ۔ نیلوفر اور آسیہ کے والد نے ریاست کی حریت پسند قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ صرف قربانیاں مانگنے والے ہیں اور ان کے ساتھ امید یں وابستہ رکھنے سے محرورمی ہاتھ آتی ہے ۔ اُن کے مطابق وادی کے عوام نہ صرف ہندوستانی فوجوں کے ظلم و جبر کے شکار ہیں جس سے نجات ملنا لازمی ہے بلکہ کشمیری عوام سیاسی قیادت کی ناعاقبت اندیشی کے شکار بھی ہیں ۔

داستان غم واندہ کا ادراک کرنے کے بعد جب راقم نے خاتون مذاکرات کار رادھا کمار سے سوال کیا کہ دورہ شوپیان کے بعد آیا اُن کے ذہن میں کوئی ایسی بات آتی ہے جس کو لے کر وہ مرکزی قیادت سے فوری ردعمل جاننے کی کوشش کرے گی تو رادھا نے بڑے ہی نپے تلے اور محتاط الفاظ میں فوجی انخلاءکی طرف اشارہ کیا ۔

اس ساری کہانی اور اس کے آخر میں پروفیسر رادھا کمار کے یک جملہ جواب کا احاطہ کرنے سے میرا مقصد نہ زخموں کو کریدنا ہے اور نہ ہی ظلم و جبر کے شکار سانحہ شوپیان کے وارثوں میں امید جگانا ۔ بلکہ مذاکرات کاروں کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرنے والوں سے یہ پوچھنا ہے کہ کیا شکیل آہنگر ہندوستان کے تین یا چار اور لوگوں کو یہ باور کرانے میں کامیاب نہیں ہوا کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو روکنے کے لئے فوجی انخلاءضرور ی ہے ۔ اگر ہم مذاکرات کاروں کو صرف اور صرف ہندوستانی شہریوں کا درجہ دے کر ہی ملیں تو تب بھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اور تین ہندوستانیوں تک اپنی بات پہنچائی اور ان کے دلوں اور ذہنوں کو جھنجھوڑنے کی کامیاب کوشش کی ۔ اپنی اس دلیل کے حق میں ایک اور بات کا خلاصہ کرنا مناسب سمجھتا ہوں ۔

دلیپ پڈگونکر نے سانحہ شوپیان سے متاثرہ خاندان کو ایک بات ضرور کہی کہ انہیں امید کا دامن چھوڑ نا نہیں چاہیے بلکہ ہم اس سانحہ کے حوالہ سے ہندوستان کی سیاسی قیادت کو زور دے کر کہیں گے کہ مجرموں کو سزا ملنی چاہیے اور اس سانحہ کے شکار خاندان کو انصاف ضرور ملنا چاہیے ۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو سانحہ کے شکار خاندان کا مذاکرات کاروں سے ملنا سود مند رہا اور کم از کم اس سانحہ کی گونج ایک بار پھر سنائی دی ۔ ایک اور بات یہ کہ علیحدگی پسند قیادت کی بائیکاٹ کال شاید وقت کا تقاضا ہو سکتا ہے یہ قابل بحث امر ہے تاہم مذاکرات کے عمل سے دور رہنا جمہوری حق ہے لیکن اس عمل سے دور رکھنا بشری حقوق کو صلب کرنے کے مترادف ہے اور یہ بات کہنے میں مجھے ذرا بھر بھی تردد نہیں کہ ہندوستان نے ہمارے سیاسی جموری اور انسانی حقوق پر شب خون مارا اور ہماری سیاسی قیادت انہی حقوق کی بحالی کا علم بلند کر کے برابر ان حقوق سے عوام کو دست بردار کرنے کے عمل میں مصروف ہے۔ استصواب رائے ‘ آزا دی رائے ‘ تقریر و تحریر کی آزادی خوف و ہراس سے آزادی‘ گھومنے پھرنے کی آزادی ۔ خیالات کے اظہار کی آزادی‘ میل جھول کی آزادی‘ فیصلے لینے کی آزادی‘ اگر ہم اپنی آزادیوں کی حصول کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں تو پھر ہم کسی کو مذاکرات کاروں سے ملنے اور ان تک اپنی بات پہنچانے کی آزادی سے محروم نہیں رکھ سکتے ہیں ۔

About the Author

Posted by Indian Muslim Observer on October 30, 2010. Filed under . You can follow any responses to this entry through the RSS 2.0. Feel free to leave a response

By Indian Muslim Observer on October 30, 2010. Filed under . Follow any responses to the RSS 2.0. Leave a response

1 comments for "شوپیان سا نحہ کی گونج ایک بار پھر سنائی دی۔مذاکرات کار ، قلمکار، ہداےت کار ۔سارے شوپےان پہنچ گئے۔"

  1. اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت میں‌رہنے والے مسلمانوں‌کو ایک نیا ملک اور ایک نئی آزاد ریاست کا قیام کرنا چاہئے۔ صرف یہی راستہ نظر آ رہا ہے جو ہمیں ہمارے حقوق دلا سکتا ہے۔ اس ہندو حکومت کی غلامی سے آزادی چاہیے!

Leave a reply

Donate to Sustain IMO

Get IMO Newsletter

IMO Search

IMO Visitors

    Archive